У нас вы можете посмотреть бесплатно Maal o Dolat Main Barkat Hasil Karnay Ka Tariqa - Mufti Muhammad Taqi Usmani Sahab или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
"Maal o Dolat Main Barkat Hasil Karnay Ka Tariqa" Mufti Muhammad Taqi Usmani Sahab "مال و دولت میں برکت حاصل کرنے کا طریقہ" مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کلپ کا مرکزی خیال مال و دولت میں "برکت" کے مفہوم کو واضح کرنا اور یہ بتانا ہے کہ حقیقی برکت کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مفتی صاحب اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں کہ مال کی کثرت ہی برکت ہے۔ اہم نکات: برکت کی عام غلط فہمی: مفتی صاحب اس بات سے آغاز کرتے ہیں کہ لوگ مبارکباد کے طور پر "اللہ مبارک کرے" جیسے جملے تو کثرت سے استعمال کرتے ہیں، لیکن "برکت" کا صحیح اور گہرا مفہوم ان کے ذہن میں واضح نہیں ہوتا۔ وہ دعا کے الفاظ بھی نقل کرتے ہیں: "وبارک لی فی" (اور جو کچھ آپ نے مجھے عطا فرمایا ہے، اس میں برکت عطا فرما دیجئے۔) برکت کا حقیقی معنی: برکت کا پہلا اور بنیادی معنی یہ ہے کہ جو چیز ملی ہے، وہ اپنا اصل مقصد پورا کرنے والی ہو۔ مثال کے طور پر: گاڑی کی برکت: یہ ہے کہ وہ سفر کا مقصد پورا کرے، نہ کہ روز ورکشاپ کے دھکے لگانے پڑیں۔ گھر کی برکت: اس سے سکون (سکنا) حاصل ہو، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا۔ اگر گھر میں تنگی ہو یا آئے دن کوئی خرابی (جیسے پانی ٹپکنا) پیدا ہو تو اس میں برکت نہیں ہے۔ برکت کی اہمیت اور ذرائع: مفتی صاحب واضح کرتے ہیں کہ برکت ایسی چیز ہے جو پیسوں سے نہیں خریدی جا سکتی، اور نہ ہی اپنی قوتِ بازو سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ محض اللہ جل جلالہ کی عطا ہوتی ہے۔ دولت کی مثال: پیسہ بذاتِ خود نفع پہنچانے والی چیز نہیں ہے۔ اس سے کوئی چیز خریدی جاتی ہے تو فائدہ ملتا ہے۔ نتیجہ: اگر مال تو ہو، لیکن اس کا فائدہ (یعنی راحت) نہ ملے تو برکت نہیں ہے۔ کثرتِ مال میں بے برکتی کی مثال: مفتی صاحب ایک بڑے سرمایہ دار کی مثال دیتے ہیں جو روزانہ اپنا بینک بیلنس گنتا ہے (حوالہ دیتے ہیں: الذی جمع مالا و عددہ)، لیکن یہ مال اس کے لیے راحت کا باعث نہیں بنتا۔ علامتِ بے برکتی: وہ شخص دن رات مال بڑھانے کی فکر میں لگا رہتا ہے، گھر میں آرام کا موقع نہیں ملتا، گھر والوں سے بات کرنے کی فرصت نہیں ملتی، اور اولاد بھی مختلف ملکوں میں ہے۔ وہ بڑے فخر سے اپنی اس "مصر و عاجزانہ" حالت کو بیان کرتا ہے، حالانکہ یہ حقیقت میں مال میں برکت نہ ہونے کی علامت ہے۔ کلپ کا خلاصہ: مفتی صاحب کا یہ مختصر کلپ ایک گہرا روحانی اور معاشی سبق دیتا ہے کہ مادی وسائل (جیسے پیسہ، گھر، گاڑی) کی مقدار سے زیادہ اہم ان میں اللہ کی طرف سے عطا کردہ "برکت" ہے۔ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ آپ کتنا مال گنتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کا مال آپ کے لیے کتنا سکون، آسانی اور فائدہ لاتا ہے اور کیا وہ اپنی مقصدیت پوری کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سب سے قدیم اور سب سے ریلایبل برانڈ درس قرآن ڈاٹ کام