У нас вы можете посмотреть бесплатно بسم اللہ الرحمن الرحیم شام کی لائیو میں اپ سبھی کا ویلکم کرتی ہوں или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
جب میں چھوٹا سا تھا، گھر کے سامنے درخت لگے ہوئے تھے، سڑک پر سایہ تھا، موسم سرما میں دھوپ ٹھंडी ٹھنگی، گرمیوں میں سایہ بھی ٹھنڈا ٹھنڈا۔۔۔ سڑک کا چونا کم تھا، لوگ گھروں سے نکل کر سڑک پر کرسیاں پھیلا کر بیٹھ جاتے، بوڑھے اپنی نچلی کرسی پر بیٹھے، سگریٹ چکوڑتے، بدمعاش چھوٹے چھوٹے لڑکے ان کے پاؤں کے نیچے کرسی کے پاؤدان کے نیچے چپکے لٹو کاٹتے۔۔۔ لڑکے ٹن ٹن کے چاول اور گڑھ کے پکوان لے کر دوکانوں پر جاتے۔۔۔ اگر باپ دادا ساتھ چلتے تو کبھی کبھار دو آنے پانچ آنے کا ٹھٹا لٹو ضرور مل جاتا۔ گھر کے سامنے والے گھر میں ایک چودھری صاحب رہتے تھے۔ اُن کے گھر والوں کے ساتھ میرے باپ کی بڑی دوستی تھی۔ چودھری صاحب خود تو قانون کے بڑے بڑھیا جاننے والے تھے، مگر ان کے بیٹے محمود، منظر کش، شفیق، رضی اور چھوٹے سے چھوٹا انور بڑے چکڑے اور ہلیے مزاج کے تھے۔ میرے جیسے چھوٹے لڑکے کو چودھری صاحب کے بیٹوں کے ساتھ کھیلنے کا شوق تھا۔ کئی بار مجھے چودھری صاحب گھر بٹھا لیتے، ممی سے چپ چپائی بناتی، گپ شپ ہوتی، بس مجھے وہاں سے اٹھنا نہیں چاہتا۔ چودھری صاحب کے گھر کے باہر کئی کسم کسم کے پودے لگے رہتے۔ بیل پودے، پودینہ، لاہ سو، گنداس، مرز، سہولت، کتنا حسن تھا وہاں کے گُلدانوں میں تازہ پھول کھلے رہتے، بڑی خوبصورتی تھی۔ چودھری صاحب کی بیوی بڑی چٹ پٹی سی، بڑی میٹھی بولی، بڑے پکوان بناتی۔ میرے باپ کو دعوت دیتے، منی محمود شفیق اور رضی کو ساتھ لے کر آتے۔ میں چودھری صاحب کے گھر کھانا کھانے گیا کروں، کتنا اچھا لگتا۔ ایک دفعہ چودھری صاحب نے اپنے بیٹوں کو شہروں میں لکھنے پڑھنے بھیج دیا، مگر وہ لوگ وہاں کی زبان سیکھ گئے۔ لاہور سے پٹنا، پٹنا سے دہلی، دہلی سے لاہور۔۔۔ کتنے قصے سنیے ان سے۔ اسکول بھی کچھ دن چلا کر چھوڑ دیا، مگر چودھری صاحب نے بڑی عنایت کی، اپنے ہاں ٹیوشن لگائی، انور کو ساتھ بٹھا کر پڑھنے کے لئے کہا، مگر وہ مجھے زیادہ سمجھا دیتا۔ چودھری صاحب کے ہاں بعض اوقات ان کے ماموں جی آتے، بڑے وکیل صاحب، ٹھاکر داری کے بڑے قریب کے، بڑے بڑھیا کپڑے پہنتے، بڑی بڑی فخر کی باتیں کرتے، منی محمود اور شفیق ان کے پاؤں کے نیچے بیٹھ کر ان کی کاپیاں سنوایا کرتے۔ درختوں کے سائے میں کتنے ہی کھیل کھیلتے، کتنے ہی قصے سنیے۔ چھوٹے چھوٹے لڑکے ٹوٹے پھٹے پرستار لے کر چودھری صاحب کے آسٹین کے پاس جاتے، آسٹین چھت کے کنارے پر بیٹھا رہتا، لڑکے چلائے، سوت، سوت، سوت، آسٹین بری طرح بیٹھے لڑکوں کو چھت سے دھکیلیں دے دیتا۔۔۔ لڑکے نیچے سڑک پر جا کر گر جاتے۔ آسٹین کے پاؤں تلے چھپ جاتے۔ آسٹین پھر چھت پر آ کر بیٹھتا۔ لڑکے پھر چلائے، پھر سوت، سوت، سوت۔۔۔ آسٹین پھر دھکیلیں دے دیتا۔ لڑکے سڑک پر گر جاتے۔ ایک دفعہ ایک لڑکے نے آسٹین کو دھکیلی دے ماری، آسٹین چھت سے نیچے آ گیا۔ لڑکا بھاگ گیا۔ آسٹین کو چودھری صاحب نے خوب ڈانٹا۔ چودھری صاحب کے گھر سے کتنے ہی قصے سنیے۔ چودھری صاحب کی بیوی چولہے پر بیٹھ کر کتنی ہی گپیں شپیں کرتی۔ بس کتنی ہی عجب گھڑیاں تھیں وہ۔ چودھری صاحب کو خدشہ تھا کہ کہیں ان کے گھر کے سامنے سے کوئی عورت یا مرغی نکل نہ جاوے۔ چودھری صاحب بڑے مُدَبَّر تھے، کئی کئی دن پہلے سے پلان بناتے۔ کئی دفعہ چودھری صاحب نے اپنے بیٹوں کو شہر سے باہر بھیج دیا، کئی کئی مہینے کے لیے۔ میرے گھر والوں کو کتنا اچھا لگتا، جب منی محمود، شفیق، رضی یا انور میرے گھر آ جاتے۔ ہم لڑکے رات کو سوتے نہیں، چودھری صاحب کے گھروں پر جمائی لیتے۔ میرے گھر کے سامنے پانوں کی دوکان تھی۔ پان والے کو سب جانتے تھے۔ صبح، شام، دوپہر، دوکان کھولی، بند کی، پان تقسیم کیے، پان ویسے ہی سب کو بانٹتا۔ ہم لڑکے دور سے چلائے، پان، پان، پان۔ پان والا ہنس کر پان دے دیتا۔ پان چبائے جاتے، پل پھونکے جاتے۔ بڑا مزہ آتا۔ سڑک کے اُس پار ایک کپڑے کی دکان تھی، جہاں سے میرے گھر والے کپڑے لیتے۔ دکان والے بڑے میٹھے بولتے، بڑے خوش تھے۔ سڑక کے اُدھر ہی ایک پریشان دکان تھی۔ دکان والا بڑا پریشان رہتا۔ دکان کے سامنے کئی کئی لڑکے بیٹھے رہتے۔ بڑے شوق سے دکان کے سامنے بنچ پر بیٹھتے، لڑکے کچھ چالاک، کچھ بےوقوف، کچھ شرارتی۔۔۔ کچھ ایسے بھی جو بولنے نہیں جانتے تھے۔ دکان والا بھی خوب کپڑے دکھاتا، کپڑے بھی کاٹتا۔ وہ خود بھی لڑکوں جیسا، ٹھنڈے دل کا، خوش مزاج، لڑکے اس کے ہاتھ سے کپڑے لیتے۔ کئی کئی لڑکے ایک ساتھ کپڑے لیتے۔۔۔ اُس کو کتنا اچھا لگتا۔ میرے گھر کے سامنے ایک بڑا سا درخت تھا۔ گرمیوں میں لڑکے اس کے سائے میں کرسیاں لگاتے، ٹھنڈے ٹھنڈے پاؤں رکھ کر بیٹھتے۔ لڑکیاں پانی سے بھری بالٹیاں لے کر جاتی، لڑکوں کے پاؤں دھوتی۔ لڑکے بڑے حیران ہوتے، کہ کتنا ٹھنڈا پانی ہے۔ لوگ گھروں سے نکل کر کرسیاں پھیلا کر بیٹھ جاتے۔ سڑک پر بھیڑ لگ جاتی۔ بچپن گزر گیا، یادیں رہ گئیں۔ یادیں کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ دن واپس نہیں آ سکتے۔ بس یادیں رہ گئیں۔ (مطلب یہ ہے کہ بچپن میں ہم جو کچھ دیکھتے تھے، جو کچھ جانتے تھے، وہ اب تو نہیں ہے، لیکن ان کی یادیں ہمیشہ قائم رہتی ہیں اور دل کو بہت رلا رہی ہیں۔) بچھڑے بہن بھائیوں کی یادیں رلاتی رہتی ہے اور وہ گزرے پل بہت یاد اتے ہیں بس یہی سب سوچتے سوچتے زندگی گزر رہی ہے