У нас вы можете посмотреть бесплатно Kiyahuzurs.a.wsemaiyathkitadfeenkarnekebaadqabarkepaaskhadehukarijtaamayeeduwakarnasharaansaabithhai или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
۔ وعلیکم السلام ورحمت الله وبرکاتہ کیا حضور اکرمﷺ سے میت کی تدفین کرنے کے بعد قبر کے پاس کھڑے ہوکر اجتماعی دعا کرنا شرعاً ثابت ہے Kiya huzur s.a.w se maiyath ki tadfeen karne ke baad qabar ke paas khade hukar ijtaamayee duwa karna sharaan saabith hai بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم الجواب وبالله التوفیق واضح رہے کہ میت کی تدفین کے بعد جو عمل احادیث میں وارد ہے وہ یہ ہے کہ حضورﷺ جب تدفین سے فارغ ہوتے تو قبر پر کھڑے رہتے اور فرماتے کہ اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو؛ کیوں کہ اس سے اب سوال کیا جائے گا۔ اسی طرح میت کو دفن کرنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا نبی کریمﷺ سے ثابت ہے، لہٰذا نبی کریمﷺ کی پیروی کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے، لہٰذا تدفین کے بعد قبر پر قبلہ رخ ہوکر دعا کرنی چاہیے، یہ دعا انفرادًا بھی کی جاسکتی ہے، اور اجتماعًا بھی، اور بہتر ہے کہ یہ دعا سرًّا ہو، البتہ جہرًا بھی کی جاسکتی ہے، (نوٹ) لیکن اس کے علاوہ قبر پر اجتماعی دعا ثابت نہیں ہے؛ لہٰذا اجتماعی دعا کو شریعت کا حکم سمجھ کر کرنا یا اس کا ایک خاص طریقہ پر التزام کرنا اور نہ کرنے والے کو ملامت کرنا اجتماعی دعا کو بدعت بنا دے گا اور ایسی صورت میں اس کا ترک لازم ہوگا، کیونکہ آپﷺ سے اجتماعی طور پر جہری دعا ثابت نہیں ہے، بلکہ ہر شخص انفرادی طور پر سری دعا کرنا ثابت ہے 📒والدلیل علی ما قلنا 📒 عن ابن مسعود قال: والله لكأني أرى رسول الله في غزوة تبوك، وهو في قبر عبد الله ذي البجادين وأبو بكر وعمر، يقول: أدنيا مني أخاكما، وأخذه من قبل القبلة حتى أسنده في لحده، ثم خرج رسول الله وولاهما العمل، فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعاً يديه يقول: اللّٰهم إني أمسيت عنه راضياً فارض عنه، وكان ذلك ليلاً، فوالله لقد رأيتني ولوددت أني مكانه‘‘. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح/٥/ ٤٥٢) قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه، فقال: " استغفروا لأخيكم، ثم سلوا له بالتثبيت، فإنه الآن يسأل» رواه أبو داود." مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (کتاب الایمان باب اثبات القبر ج نمبر ۱ ص نمبر ۲۱۶،دار الفکر) عن عثمان قال: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: ”استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل“، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الثاني، ص ۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وعن عبد اللہ بن عمر قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحة البقرة وعند رجلیہ بخاتمة البقرة“، رواہ البیھقي فی شعب الإیمان وقال: والصحیح أنہ موقوف (المصدر السابق، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ص ۱۴۹، وانظر مرقاة المفاتیح أیضاً)، وعن عمرو بن العاص قال لابنہ وھو في سیاق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علی التراب شناً ثم أقیموا حول قبري قدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا حتی أستأنس بکم وأعلم ماذا أراجع بہ رسل ربي؟ رواہ مسلم (المصدر السابق)، ویستحب ……بعد دفنہ لدعاء وقراء ة بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر رد المحتار أیضاً، وفي حدیث ابن مسعود: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في قبر عبد اللہ ذی النجادین “ الحدیث، وفیہ: فلما فرغ من دفنہ استقبل القبلة رافعاً یدیہ ، أخرجہ أبو عوانة في صحیحہ (في، کتاب الدعوات، باب الدعاء مستقبل القبلة، ۱۱: ۱۷۳، ط:دار السلام الریاض) فقط والله أعلم بالصواب اور جدید مسائل کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل کو بھی ضرور سبسکرائب کریں / muftisyedahmedqasmiofficial عاجز ،نوید قاسمی، بنگلوری ۔۔۔۔