У нас вы можете посмотреть бесплатно بسنت اور پتنگ بازی: شرعی اور تاریخی حقیقت или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
بَسَنت اور پتنگ بازی — شرعی و تاریخی حقیقت بسنت دراصل برصغیر کا ایک ہندومذہبی تہوار ہے، جو پتنگ بازی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ہندو مذہب میں بسنت دیوی سَرَسوِتی کی تعظیم میں موسمِ بہار کے آغاز پر منایا جاتا ہے۔ دیوی سَرَسوَتی کو ہندو مذہب میں علم، عَقل، موسیقی، فنونِ لطیفہ اور زبان کی دیوی مانا جاتا ہے۔ اس موقع پر زرد لباس پہنے جاتے ہیں، موسیقی اور رَقْص کا انعقاد ہوتا ہے، اور پتنگ بازی کی جاتی ہے۔ اس طرح بسنت ایک خالص مذہبی تہوار کے طور پر ہندو عقائد، رسومات اور عبادات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں اس تہوار کا ایک اور نہایت حساس اور افسوس ناک پہلو بھی ملتا ہے، جو اسے محض ایک ثقافتی یا موسمی جشن نہیں رہنے دیتا۔ آج سے قریباً تین سو سال قبل مغلیہ دور میں سیالکوٹ کے ایک ہندو لڑکے حقیقت رائے نے رسولِ اکرم ﷺ اور سیدہ فاطمہؓ کی شان میں گستاخی کی۔ جرم ثابت ہونے پر اسلامی عدالت نے اسے سزائے موت دی۔ بعد میں ہندوؤں نے حقیقت رائے کو مذہبی ہیرو بنا لیا۔ اس کی سمادھی (سمادھی ہندو مذہب میں کسی مرنے والے کی یادگار کو کہتے ہیں، جہاں اسے عقیدت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، میلے لگائے جاتے ہیں اور رسومات ادا کی جاتی ہیں) پر بسنت کا میلہ شروع کیا گیا، اور پہلی پتنگ بھی وہیں اڑائی گئی۔ یوں بسنت کو توہینِ رسالت کی یادگار کے طور پر فروغ دیا گیا، اور رفتہ رفتہ مسلمان بھی اس رَسْم میں شامل ہوتے چلے گئے۔ پتنگ بازی بظاہر ایک سادہ کھیل نظر آتی ہے، مگر جب اسے شرعی، اخلاقی اور تاریخی زاویے سے دیکھا جائے تو اس کے کئی سنگین اور نقصان دہ پہلو سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر دھاتی اور کیمیکل لگی ڈور سے انسانی جانوں کو شدید خَطَرات لاحِق ہوتے ہیں، شرطیں اور مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں جو اکثر جوا (قمار) کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، ہزاروں روپے کی فضول خرچی اور مال کا ضیاع ہوتا ہے، آئے دن حادثات، گلے اور سر کٹنے کے واقعات پیش آتے ہیں، نیز بے حجابی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کو ب ھی فروغ ملتا ہے۔اسلامی فقہ کے مطابق غیر مسلم مذہبی رسوم میں شرکت تشبّہ بالکفار کے زمرے میں آتی ہے۔سنن ابو داؤد میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"یعنی جو شخص کسی قوم کی مشابَہَت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے لیے بسنت اور اس سے وابستہ پتنگ بازی جیسی رسومات سے اجتِناب لازِم اور ضروری ہے۔