У нас вы можете посмотреть бесплатно حضرت موسیٰؑ کا نکاح، امانت و طاقت کی بنیاد پر ملازمت — سورۃ القصص آیات 26 تا 28 کی مکمل تشریح или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
سورۃ القصص کی آیات 26 تا 28 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا ایک نہایت بابرکت اور رہنمائی سے بھرپور واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب حضرت موسیٰؑ مدین پہنچے تو ایک نیک اور باحیا لڑکی نے اپنے والد کو مشورہ دیا کہ ایسے شخص کو ملازم رکھا جائے جو طاقتور بھی ہو اور امانت دار بھی۔ یہی اصول بعد میں اسلامی معاشرت، ملازمت اور قیادت کی بنیاد بنا۔ ان آیات میں حضرت موسیٰؑ کے نکاح کا واقعہ بھی آتا ہے، جہاں مدین کے نیک بزرگ اپنی بیٹی کا نکاح حضرت موسیٰؑ سے اس شرط پر کرنے کی پیشکش کرتے ہیں کہ وہ آٹھ یا دس سال تک ان کی خدمت کریں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نکاح سادگی، باہمی رضامندی، محنت اور دیانت پر قائم ہونا چاہیے، نہ کہ محض مال و دولت پر۔ یہ قرآنی قصہ اسلامی نکاح، روزگار، وعدے کی پاسداری اور اللہ پر توکل جیسے عظیم اصولوں کو واضح کرتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کا یہ نکاح نہ صرف ایک ذاتی واقعہ ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے عملی رہنمائی بھی ہے کہ زندگی کے بڑے فیصلے اخلاق، امانت اور تقویٰ کی بنیاد پر کیے جائیں۔