У нас вы можете посмотреть бесплатно mufti taqi usmani uzbekistan tashqand conference speech urdu summery | مفتی تقی عثمانی ازبکستان بیان или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
15 اکتوبر کو ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے ایک ہلٹن بال روم نامی ہوٹل میں اسلام نیکی اور امن کا مذہب کے موضوع پر ایک باوقار بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوا۔ جس میں دنیا کے 22 ممالک جیسے سعودی عرب، مصر، ترکی، اردن، عمان، روس، امریکہ، فرانس، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، اور ترکمانستان سمیت دیگر کئی ممالک کے 70 سے زائد معزز بین الاقوامی تنظیموں کے رہنماؤں، مذہبی شخصیات، مفتیان اور مشہور علماء کرام نے شرکت کی ہے اس کانفرنس میں بھارت سے دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین و امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی صاحب اور پاکستان سے وفاق المدارس العربیہ کے صدر و مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب شریک ہوئے ہیں۔اس کانفرنس کا انعقاد جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوف کی خواہش پر کیا گیا۔ازبکستان کے صدر نے کانفرنس کو کامیاب بنانے پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ اسلام نیکی اور امن کا مذہب ہے کے موضوع پر منعقدہ پروقار بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعد ازاں سب سے پہلے صدارتی مشیر خیرالدین سلطانوف نے بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء کو جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کا تہنیتی پیغام پڑھ کر سنایا۔جس میں بتایا گیا کہ بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء کا خیر مقدم کیا جاتا ہے، مزید اس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس کے اقدام کی حمایت کی گئی،نیز کہا گیا کہ گزشتہ 7 سالوں میں ہمارے ملک ازبکستان میں مذہبی اور تعلیمی میدان میں بڑی اصلاحات کی گئیں، بین الاقوامی سائنسی مراکز قائم ہوئے، اور ہمارے علماء کی بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ صدارتی مشیر نے پیغام پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ کانفرنس کے فریم ورک کے اندر اسلام کے مقدس مذہب کی انسانی فطرت کو آشکار کرنے کے لیے سائنسی لیکچرز، اقدامات اور مباحثے دنیا میں امن و سکون میں معاون ثابت ہوں گے۔صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے عظیم علماء کے ملک ازبکستان میں منعقد ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر کے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان ایک بابرکت سرزمین ہے جس نے صدیوں سے عظیم اور ممتاز علماء پیدا کیے ہیں۔ اس زمین پر بہت سے عظیم لوگ پیدا ہوئے اور پلے بڑھے جنہوں نے پوری دنیا کو علم اور روشنی سے بھر دیا۔ اس زمین پہ پیدا ہونے والے ہمارے ان عظیم علماء نے اسلامی علوم کے تمام شعبوں مثلاً قرآن و تفسیر، حدیث، فقہ میں اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا دوران گفتگو کہنا تھا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سائنس کے مختلف شعبوں میں اس ملک کے اسکالرز کی کارنامے اعلیٰ سطح پر ہیں۔ اور یہ بات ساری دنیا جانتی ہے۔ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے کہا کہ میں نے بچپن میں جو پہلا لفظ سنا تھا ان میں بخاری کا لفظ بھی تھا۔ تب سے میرا یہ خواب تھا کہ میں اس مبارک سرزمین پر آؤں جہاں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کتنی صدیاں گزر گئیں مگر پوری دنیا کے علماء آج بھی اس عظیم ہستی کے علوم کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے مزید کہا کہ اس سرزمین سے اس قدر علماء پیدا ہوئے کہ ان کی گنتی کرنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں 5 سال پہلے ازبکستان آیا تھا اس وقت کے بعد آج ایک مرتبہ پھر مجھے اس سر زمین ازبکستان کے سفر کی سعادت حاصل ہوئی مگر میں اس بار پہلے کی بہ نسبت بہت سی چیزوں میں تبدیلی دیکھ رہا مثلاً اقتصادی،علمی،تعلیم اور مدراس دیینیہ کے حوالے سے یہ ملک کافی ترقی کر گیا ہے اور اس سب خوبی پر میں یہاں ازبکستان کے صدر شوکت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اس کے علاوہ بھی میں یہاں عظیم تخلیقی کاموں اور عظیم تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔موضوع کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا دین اسلام امن اور سلامتی اور خیرخواہی کا دین ہے اور یہ کسی دلیل کا محتاج نہیں کیونکہ یہ چیز ایک امر بدیہی ہے جیساکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کتاب اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات سے ہمیں سکھایا ہے اور اس موضوع پر تفصیل سے مقررین مجھ سے پہلے گفتگو کر چکے ہیں مگر پھر بھی اسلام کے بعض اعمال ایسے ہیں جن کو لے کر د ش م نانِ اسلام ہمارے دین کے حوالے سے شبہات پھیلاتے رہتے ہیں جیساکہ ج ہ ا د وغیرہ ایسے ہی ش بھات کے جوابات دینے کے لیے ایسی کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ دوسرے نمبر پر جو بات میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کا غیر مسلم لوگوں کے ساتھ اور ہماری حکومتوں کا غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ برتاؤ اور معاملہ کیسا ہونا چاہئے تو اس سلسلے میں بھی قرآن و سنت میں ہمارے لیے رہنمائی موجود ہے مفتی صاحب نے اس ضمن میں قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب مکہ میں تھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی تھی کہ رب اجعل ھذا البلد آمنا اے اللہ تو اس شہر کو امن کا شہر بنا مفتی صاحب نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں جیسے ہم اپنے امن کے خواہاں ہیں ایسے ہی پوری انسانیت کے لیے امن چاہتے ہیں۔چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے اس لیے کہ تم سب ایک باپ آدم علیہ السلام کی اولاد ہو۔بین الاقوامی کانفرنس سے جمہوریہ ازبکستان کے صدر کے مشیر مظفر کومیلوف، چیئرمین مفتی شیخ نورالدین خالق نذر، کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین صادقجون نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ازبکستان کی پالیسی ہمارے ملک میں رواداری کی پیروی کی جا رہی ہے، مذہبی میدان کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں غیر ملکی تصورات کے خ لاف بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں @alzujajahtvofficial