У нас вы можете посмотреть бесплатно روزے کے فدیہ کے 10 اہم مسائل | Top 10 Issues of Fidya | Urdu | Dr. Hafiz Rizwan Abdullah или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
اس ویڈیو میں روزے کے فدیہ کے حوالے سے 10 اہم مسائل پر گفتگو کی گئی ہے جو درج ذیل ہیں: 1۔ روزوں کےفدیہ میں کیا دینا ہے؟ جمہور علماء کے نزدیک فدیہ میں صرف غلہ، راشن یا کھانا ہی دیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ نقدی یا پیسے نہیں دیے جاسکتے۔ جبکہ فقہاء احناف کے نزدیک اگر مناسب معلوم ہو تو کھانے کی جگہ نقدی یا پیسے دیے جا سکتے ہیں۔ درست بات یہی ہے کہ جس چیز میں مساکین اور فقراء کا زیادہ فائدہ ہو وہ چیز دی جا سکتی ہے ۔ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اسی بات کی تائید کی ہے کہ اگر کھانا ان کی ضرورت کو زیادہ پورا کرنے والا ہے تو کھانا دیا جائے اور اگر نقدی زیادہ پورا کرنے والی ہے تو نقدی یا پیسے دے دیے جائیں۔ یعنی اس معاملے میں وسعت ہے۔ الحمد للہ۔ 2۔ روزوں کے فدیہ کی مقدار کتنی ہے؟ اگر کھانا، راشن، غلہ یا اناج دیا جارہا ہے تو اس کی مقدار آدھا صاع ہے جو ہمارے جدید وزن کے مطابق ڈیڑھ کلو کے قریب بنتا ہے اور اگر نقدی دی جائے تو اس کی مقدار تقریبا ایک سو روپے بنتے ہیں جو ایک روزے کا فدیہ ہوگا۔ 3۔ فدیہ کب دینا ہے؟ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے فدیہ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ رمضان کے روزے مہینہ شروع ہونے پر فرض ہوتے ہیں جب روزے فرض ہوں گے تب فدیہ فرض ہوگا اور اس کو ادا کرنا جائز ہوگا۔ 4۔ روزے کا فدیہ یا تو روزانہ کا اسی دن دیا جائے یا مہینے کے آخر میں دے دیا جائے، مہینے کے شروع میں یعنی پہلے دوسرے روزے پورے مہینے کا ادا کرنا درست نہیں ہے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ جب بوڑھے ہو گئے اور ایک دو سال روزے نہ رکھ سکے تو انہوں نے مہینے کے آخر میں ایک بڑے برتن میں کھانا تیار کیا اور 30 مسکینوں کو بلا کر انہیں کھانا کھلا دیا۔ یوں انہوں نے تیس روزوں کا فدیہ ادا کر دیا۔ 5۔ صرف مسکین کو ہی فدیہ دینا چاہیے، مسکین کے علاوہ اگر کسی اور کو دیا جائے گا تو وہ درست نہیں ہوگا، یعنی ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ قرآن نے طعام مسکین کہا ہے۔ مسکین میں فقیر بھی شامل ہے۔ 6۔ سارا فدیہ ایک مسکین کو بھی دیا جاسکتا ہے اور زیادہ مساکین پر اسے تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس میں وسعت اور گنجائش ہے۔ جیسے مناسب سمجھا جائے ویسے دیا جاسکتا ہے۔ الحمد للہ 7۔ کافر کو روزوں کا فدیہ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ روزے کا فدیہ فرض صدقہ ہے اور جو صدقات واجبہ ہیں وہ کافر اور غیر مسلموں کو دینا جائز نہیں ہیں۔ ہاں اگر نفل صدقہ ہو تو وہ کسی ایسے غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے جو غیر محارب یعنی جنگجو نہ ہو، مگر اس میں بھی بہتر یہی ہے کہ مسلمان کو ترجیح دی جائے۔ 8۔ جن رشتہ داروں کا نان و نفقہ ذمہ ہو ان کو روزوں کا فدیہ دینا جائز نہیں ہے، جیسے والدین، اولاد، بیوی۔ 9۔ اگر رشتہ دار مستحق ہیں یعنی مساکین ہیں تو انہیں دیگر مساکین اور فقراء کے مقابلے میں ترجیح دینی چاہیے کیونکہ ایک حدیث کے مطابق: کسی عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ کرنے کا اجر ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے کا دوہرا اجر ہے؛ ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ 10۔ اگر کوئی شخص روزوں کا فدیہ ادا کرنے سے عاجز ہے، یعنی وہ روزہ رکھنے سے بھی عزیز ہے اور فدیہ ادا کرنے سے بھی عاجز ہے تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہاں جب اس کے پاس پیسے آجائیں تو پھر وہ ان روزوں کا فدیہ ادا کر دے اور اگر نہ آئیں تو پھر اس کے ذمہ کچھ بھی فرض اور واجب نہیں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس کے پاس طاقت ہے یا نہیں لہذا اس کے ذمہ کچھ بھی فرض یا واجب نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔ Follow us: Facebook: / alhidayainstitutepk YouTube: https://www.youtube.com/channel/UCBOR.... روزے کا فدیہ #فدیہ کی مقدار #فدیہ کا وقت#فدیہ کے مسائل