У нас вы можете посмотреть бесплатно روزہ اور قضاء کی طاقت نہ رکھنے والے کا کفارہ | از: ڈاکٹر فضل الرحمن المدنی| پیش کنندہ: علی محمد مدنی или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
روزہ اور قضاء کی طاقت نہ رکھنے والے کا کفارہ سوال: رمضان کے روزے نہ رکھ سکنے والا اگر قضاء کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو ہر روزہ کے بدلےکتنا فدیہ دے گا؟ جواب: رمضان کے روزے نہ رکھ سکنے والا اگر قضاء کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو ( جیسے وہ بوڑھا جو بہت کمزور اور بیمار ہو ) تو ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھاناکھلائے گا ، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ﴾ () یعنی جو لوگ روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان پر ایک مسکین کے کھانے کا فدیہ ہے ۔ اور حضرت انس ایک سال کمزوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکے تو انہوں نے ایک لگن ثرید ( شوربے میں تر کی ہوئی روٹی )تیار کی اور تیس مسکینوں کو بلا کر پیٹ بھر کھلادیا ۔ () اگر کھانا کھلانے کے بجائے غلہ وغیرہ دینا ہو تو بعض فقہاء نے ایک صاع اور بعض نے نصف صاع اور بعض نے ایک مُد دینے کے لئے کہا ہے،مگر کتاب و سنت میں اس کی کوئی تحدید نہیں ہے، اس واسطے جتنے میں وہ مسکین جس کو آپ فدیہ دے رہیں ایک وقت پیٹ بھر کر کھا لے کم از کم اتنا غلہ دینا چاہئے ، اور بہتر یہ ہے کہ پکا کر کھلا دیا جائے ، جیسا کہ لفظ ”طعام مسکین “ اور حضرت انس کے عمل سے معلوم ہوتا ہے ، اور کسی مصلحت یا مجبوری کی وجہ سے چاول وغیرہ ہی دے دیں توکوئی حرج نہیں ، مگر اس کے ساتھ سالن کے سامان یا دال بھی دیں گے۔ #روزہ #قضاء