У нас вы можете посмотреть бесплатно کراچی | Ep. 216 | شہر پھر تنگ لگ رہا ہے — نبض مختلف или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
آج کا بوجھ کچھ زیادہ ہے۔ پورٹ قاسم — بھاپ لائن دھماکا صنعتی مقام پر کارکن ہلاک متعدد مزدور جھلس کر زخمی پورٹ قاسم کے پاس نمک بھری ہوا، لوہے کی بو، شام کا دھواں گیٹ کے باہر ہیلمٹ چمکے، سائرن کٹے، پسینے میں جلتا سماں بھاپ نے دیوار چیری، ایک جھٹکا، پھر خاموشی کی کرچی #کراچی #خبریں #کاراوکے #سر #شہر Music style: Karachi Urdu Trap Rap Tags: karachi, newskaraoke, news, karaoke, nyhetsrytm, trap, rap Lyrics: پورٹ قاسم کے پاس نمک بھری ہوا، لوہے کی بو، شام کا دھواں گیٹ کے باہر ہیلمٹ چمکے، سائرن کٹے، پسینے میں جلتا سماں بھاپ نے دیوار چیری، ایک جھٹکا، پھر خاموشی کی کرچی مزدور کی ہتھیلی پر راکھ، آنکھ میں چنگاری، سانس بھی مرچی فائر کی گاڑی دوڑی، لال بتی نے رات کو نوچا اسپتال کے در پہ چہرے سخت، کسی نے نام لیا، کسی نے روکا یہ شہر سیدھا بات نہیں کرتا، پہلے شور پھر خبر اگلتا ایک طرف دھماکہ، دوسری طرف فون ہر جیب میں آگ سا جلتا دباؤ چڑھا ہوا دباؤ چڑھا ہوا پمپ پہ قطاریں مڑی ہوئیں، سڑک کے کونے تک پھیلا تیل کا ڈر ڈرائیور کے ہاتھ میں کین، انجن بند، مگر ماتھے پر چلتا سفر شیشہ نیچے، نوٹ مڑے ہوئے، ہر شخص کہے بس پورا بھر دو کسی پمپ نے شٹر گرا دیا، پیچھے سے ہارن کہے ابھی کھل دو کلپ گھومے، افواہ دوڑی، بلاک بلاک گاڑیاں سہم کے کھڑی دھوپ تو ڈھل گئی لیکن ہیڈ لائٹ میں بھی بےچینی بڑی موڑ پہ رکشا، بس، بائیک، سب ایک ہی سانس میں پھنستے گئے شہر کے حلق میں خشک صدا، لوگ اپنی باری گنتے گئے ادھر جلوس نکلے، بینر ہلے، قدموں نے سڑک کو سخت کیا سندھ بھر کی آواز کراچی پہنچی، ہر چہرے نے غصہ وقت کیا گولی کی بازگشت ابھی تازہ، نام زبانوں پر کانٹے جیسا نعرہ اوپر، موبائل روشن، نیچے جوتا گرد میں پیسا کسی نے تحقیق مانگی، کسی نے حفاظت، کسی نے جواب بلند سفارت، دفتر، دروازے، سب کے سب آج لگے کم قد، کم ہمت ٹریفک سگنل سرخ رہے، مگر ہجوم نے اپنی رفتار نہ توڑی رات نے جیب سے شہر نکالا، ہر خبر الگ دھات میں جوڑی دباؤ چڑھا ہوا ایک طرف بھاپ، ایک طرف پیٹرول، ایک طرف نعرہ سڑک پہ کھلا میں نے صرف دھواں دیکھا، شور سنا، اور نم ہوا سا حلیہ سمندر کی طرف سے ہوا آئی، مگر گلی میں گرمی ویسی تھی کراچی آج بھی جاگ رہا تھا، اور رات بہت بھاری بیٹھی تھی