У нас вы можете посмотреть бесплатно کراچی | Ep. 209 | آج سانس بھاری ہے — نیا چہرہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
آج کا بوجھ کچھ زیادہ ہے۔ گل پلازہ عمارت — آگ بجھانے میں ناکامی عمارت معائنے — حفاظتی بے ترتیبی کا اندراج بجلی کٹائی — ایمرجنسی روشنی بند تھیں تاروں کی کم روشنی، ٹریفک کی آواز، گرم اسفلت کی مہک گلی کے کونے پہ دھواں، لوگ کھڑے، ہارڈوئر کی ٹھنڈی چمک راولپنڈی نہیں، کراچی کی رات، پلکوں پہ مٹی، شہر کی سانس میں داغ #کراچی #خبریں #کاراوکے #سر #شہر Music style: Karachi Urdu Trap Rap Tags: karachi, newskaraoke, news, karaoke, nyhetsrytm, trap, rap Lyrics: تاروں کی کم روشنی، ٹریفک کی آواز، گرم اسفلت کی مہک گلی کے کونے پہ دھواں، لوگ کھڑے، ہارڈوئر کی ٹھنڈی چمک راولپنڈی نہیں، کراچی کی رات، پلکوں پہ مٹی، شہر کی سانس میں داغ دروازے بند، بجلی غائب، سیڑھیاں خاموش، لاشے کی راہ میں راگ Gul Plaza کے شیشے چمکے، فون پر چیخ، بھاگتی ہوئی ہر ادا انسپیکشن کی کاغذی کہانی، ریکارڈ میں نام، حقیقت میں خفا ایمرجنسی لائٹ نہیں، راستہ بند، انتظار میں دھواں گھٹا ریسکیو دیر سے آیا، ہاتھوں میں سوال، زبانوں پہ سناٹا پانی بہا تو سمندر میں، مگر کیچڑ کا حساب رکھے کون؟ سرِ مٹی پہ منصوبے، بورڈ روم میں رشوت، سڑکوں پہ خون مراد نے رقم دی، پانچ ارب کے نوٹ، وعدے پر مہر لگا دی ٹینڈر کی لکیریں، فائلوں کی چھینٹیں، مگر ندیوں میں گندا بھیگا پانی رہا بیچا دیا ٹھیکیدار کے لفظ نرم، مقامی آدمی کا غم سخت پائپوں میں سرگوشی، کارخانے سے بدبو، ساحل پر کشتی کا سفر دشوار اور بیتابی بےحد ایک آدمی کی زندگی رکی، کل رات سڑک پر سرخ روشنی میں گاڑی نے روکا نہیں، شہر نے روکا نہیں، بس ایک سکوت میں لٹکی چپتی لوگ بولے، پھر خاموشی، خبر بن کر گھومتی، گھر کے دروازے بند ہوئے ٹریپ بٹ کی بیٹ، ہارٹ بیٹ کی دھुन، دم گھٹنے کا احساس سینے سے چپکے ہوئے راستے تگنی، عدالتیں لکھیں، ٹی وی پہ چہرے تبدیل ہوتے رہے کاغذی وعدے، سڑکوں کے نشان، سیڑھیوں پر دھواں، لوگوں کی چپکے مسکراتی ریزے ہوا میں مٹی، پانی میں زہر، شہر کی دھڑکن میں قاتل کی چاپ مشینری کی کھٹن، سیاست کی لڑی، ہر موڑ پہ کوئی نیا جواب خواب کمرشل کی روشنی، لاکٹ کی قیمت، بند دروازے بتاتے ہیں قصہ ریسکیو نے ہاتھ اٹھائے، پلکوں پہ سوال، آنکھوں میں شور کی کثافت پانچ ارب کی چمک، مگر نالیاں بند، سمندر نے سب کچھ سمیٹا نہیں ایک قبر کھلی، ایک گھر چمٹا، رات ختم نہیں ہوتی، بس مسافت تیز ہوتی گئی دھوئیں کی خوشبو، نمک کا ذائقہ، سڑک کے کنارے ٹکراؤ کی صدا کراچی کی رات، پلیٹوں پہ کھانا، سڑکوں پر نقصان، دلوں میں دھڑکن کی حد واپس نہ آنے والی گاڑی، واپس نہ آنے والا ہاتھ، شہر کی نبض میں خراش بجلی خاموش، لائٹ بجلی ہوئی، اور ہم چلتے رہے، ٹوٹتی امید کے ساتھ ایک بارش دھواں سیدھا اوپر، سمندر نیچے، شہر کے منہ پہ ایک کالک لوگ اٹھتے ہیں، لوگوں کے منہ بند، شور بن کر رہ جاتی ہے ان کی چال رات گہری، بجلی کم، دل دھڑکے، شہر کا وزن کندھے پہ لامحالہ بس ایک دل خاموش ہوا، ایک وعدہ ہوا، شہر کی سانس پھر چلتی ہوئی بیکار۔