У нас вы можете посмотреть бесплатно نجاست حکمی اور نجاست حقیقی||Najasat Hukmi aur Najasat e Haqiqi " Muhammad Yaqoob Naqshbandi или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
نجاست کی دو قسمیں ہیں نجاست حکمی اور نجاست حقیقی نجاست حکمی سے مراد وہ نجاست ہے کہ جو بظاہر کپڑے یا جسم پر نظر نہ آئے؛ لیکن شریعت اس کو ناپاکی کہہ دے؛ یعنی اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپاک کہہ دے؛ جیسے وضو کا ٹوٹ جانا؛ اور غسل کا فرض ہونا نجاست حکمی ہے..!. نجاست حکمیہ سے پاکی کا طریقہ یہ ہے جہاں وضو کی ضرورت ہو وہاں وضو کرنا اور جب غسل کی حاجت ہو تو غسل کرنا.... نجاست حقیقی سے مراد وہ نجاست ہے جو جسم یا کپڑے پر نظر آئے اور اس کی دو قسمیں ہیں.. نجاست غلیظہ اور نجاست خفیفہ نجاست غلیظہ جیسے شراب؛ بہنے والا خون؛ مردار کا گوشت؛ اس کا چمڑا؛ ان جانوروں کا پیشاب جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا؛ کتے؛ اور درندے کا پاخانہ اور تھوک؛ مرغی؛ بطخ؛ مرغابی؛ کی بیٹ اور وہ چیز جو انسان کے بدن سے نکلے اور اس سے وضو ٹوٹ جائے.... اگر ان میں سے کوئی نجاست انسان کے جسم یا کپڑے پر لگی ہو تو اس کا دھونا فرض ہے اور اس کی مقدار ایک درہم کے برابر ہے.... امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نجاست غلیظہ وہ ہے جس کے بارے میں وارد نص کے مقابلہ میں کوئی اور نص نہ ہو.... یعنی دو طرح کی روایتیں اس کے بارے میں نہ ہوں؛ایک اس کے حکم کی سختی بیان کرتی ہو اور دوسری نرمی.... انسان کا پیشاب حتیٰ کہ بچے یا بچی کا پیشاب بھی نجاست غلیظہ ہے اس سلسلہ میں بچے اور بچی کا کوئی فرق نہیں.. اس سلسلہ میں بہنوں کو خاص طور پر اس کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیتے ہیں یہ جائز نہیں ہے اس کو کو اسی طرح دھونا ضروری ہے جس طرح کسی بڑے شخص کے پیشاب کو نجاست خفیفہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب نجاست خفیفہ ہے اور جن پرندوں کو نہیں کھایا جاتا انکی بیٹ بھی نجاست خفیفہ ہے.. نجاست خفیفہ بدن یا کپڑے کے چوتھے حصے تک لگی تو معاف ہے.. چوتھا حصہ یا اس سے زیادہ لگی ہو تو اس کا دھونا ضروری ہے.... بدن یا کپڑے کا چوتھا حصہ مراد ہے یہ چوتھا حصہ اس لئے شمار کیا جاتا ہے کہ جس طرح ہم چوتھائی سر کا مسح کرتے ہیں تو سارے سر کا مسح شمار کیا جاتا ہے اسی طرح اس کا حکم ہے.... اور نجاست خفیفہ کو خفیفہ اس لئے شمار کیا گیا. مثلا ایک روایت میں ہےحکم ہے کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو... اور دوسری روایت میں کچھ مریضوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا اس لیے جب ایک ہی چیز کے بارے میں دو حکم سامنے آئیں گے تو اس تعارض کی وجہ سے اس کو نجاست خفیفہ کہا جائے گا یہ امام ابو حنیفہ کا موقف ہے..... اور یہ بھی یاد رہے جگر؛ تلی؛ گردوں؛ وغیرہ کا خون؛ مچھر؛ مکھی؛ مچھلی وغیرہ کا خون اسی طرح شہید کا خون پاک ہے...