У нас вы можете посмотреть бесплатно Naam Nehi. Urdu Kawwali based on Quazi Johirul Islam's poem "Subconscious or Nameless". или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ایک نام نہیں (نصرت فتح علی خان کے انداز میں صوفی قوالی) آلاپ (آہستہ، گہرے سر میں) آآآہ… ہُوؤؤؤ… ہُو… ہُو… ہُو… زمین کی سانس میں پہاڑوں کی دعا ہے… اور دعا میں کوئی نام نہیں… مکھڑا (بہت نرم، پھر ہم نوا شامل) ایک نام نہیں… ایک نام نہیں… جو ہے، وہی ہے—ایک نام نہیں… (ہم نوا) ایک نام نہیں… ایک نام نہیں… انترا اوّل (قصہ گوئی، نصرتی ٹھہراؤ کے ساتھ) قدیم پہاڑ، کتنے لقب نیل گری، ہمالہ، آلب و آندیس مگر خاموش ہیں سب کی جڑیں زمین کے پیٹ میں، ایک ہی نفس رسی کی مانند پتھر کی جڑ اندھیرے میں بہتی، بے صدا اک دوسرے کو تھامنے کو صدیوں سے اندر سفر رواں بول بانت (رفتار تھوڑی تیز) نام تو چوٹی کا ہوتا ہے چوٹی! چوٹی! چوٹی! جڑ کا کوئی نام نہیں جڑ! جڑ! جڑ! (ہم نوا جواب دیتے ہیں) نام نہیں—نام نہیں! مکھڑا (زور پکڑتا ہوا) ایک نام نہیں… ایک نام نہیں… ہم، پہاڑ، سمندر—ایک نام نہیں… انترا دوم (فلسفیانہ، آواز میں درد) چوٹی کو تھامے جو سینہ ہے اس کا بھی نام رکھا انسان نے کمر کی ہڈی جو سہارا دے کیا اس کا بھی کوئی نام جانے؟ ان گنت جڑوں پہ کھڑی ہوئی یہ خاک، یہ ہم، یہ سارا جہاں جب سب مل کر ایک ہو جائیں تو نام کہاں؟ پہچان کہاں؟ سوال–جواب (قوالی کا کلاسک حصہ) قوال: جب سب ایک ہوں؟ ہم نوا: نام نہیں! قوال: جب سب ایک ہوں؟ ہم نوا (زور سے): نام نہیں! نام نہیں! تَان (نصرتی بلند پرواز) ہُوؤؤؤ… ہُو… ہُو… ہُو… دیکھا ہے تم نے اپنی جڑ؟ ایک عظیم مٹی میں گڑی ہوئی آئس برگ دکھتا ہے تنہا جڑ سمندر میں—لا محدود، لا فانی انترا سوم (شدت میں اضافہ) کوئی شاعر، کوئی فنکار کوئی گمنام، کوئی بے آواز کوئی بچہ جو آیا نہیں سب کے نام، سب کی پرواز روشن لقب، فخر کی بات مگر روح کہاں؟ جڑ کہاں؟ تخلیق کی جڑ کو ڈھونڈو ذرا اے دل! اے سالک! اے جاں! وجد کا حصّہ (تال تیز، ہاتھوں کی تھاپ) ڈھونڈو! ڈھونڈو! جڑ کو ڈھونڈو! (ہم نوا) روح کو ڈھونڈو! انترا چہارم (نصرتی تصوف کی انتہا) ماضی، حال اور آنے والا سب کی جڑ ایک خلا میں گڑی نظر آنے والے، نہ آنے والے سب کی سانس ایک مٹی میں جڑی یہ بے نام، لامحدود شعور نرم کاد میں سب موجود صرف “اب” ہے جو بہتا ہے کل کا درخت نہیں، نہ فردا کا وجود نہ خزاں، نہ بہار، نہ گرمی کی فصل یہاں وقت بھی ہو جاتا ہے گم بس ایک حال، اک دائم حال جس میں تُو بھی ہے—جس میں ہم آخری مکھڑا (انتہائی وجد، بار بار دہرایا جائے) ایک نام نہیں… ایک نام نہیں… وقت سے آزاد—ایک نام نہیں… ہم سب اسی میں سانس لیتے ہیں… ایک موجود—ایک نام نہیں… اختتامی ذکر (نصرتی روایت) اللہ ہُو… اللہ ہُو… اللہ ہُو… ہُو… ہُو… ہُو… @unobangal #গান #song #poem #music #pakistan #india #kawaii