У нас вы можете посмотреть бесплатно Pashto Byan Molana Shikh Idres Sab |Hazrat Abuzar Gefari ( rz )Ka Waqia| حضرت ابوذر غفاری ؓ کا واقعہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Pashto Byan Molana Shikh Idres Sab |Hazrat Abuzar Gefari ( rz )Ka Waqia| حضرت ابوذر غفاری ؓ کا واقعہ Hazrat Abu Dharr Ghaffari (RA) held a very high position among the companions in terms of asceticism, piety and truthfulness. He always spoke the truth and stayed away from the love of the world. In this statement, Maulana Sheikh Idris Sahib narrates the faith-inspiring and instructive incident of the death of Hazrat Abu Dharr Ghaffari (RA) and how he died in the deserted place of Rabdha and the prophecy of the Messenger of Allah (ﷺ) proved true. This incident teaches us to avoid the love of the world, adopt simplicity and stick to the truth. If you like Islamic events and faith-inspiring statements, then be sure to like, share and subscribe to the channel. Molana Shikh Idres Sab Pashto Byan Sheikh idrees sab Byanaat 2026 Molana Shikh Idres Seb Byan #حضرت_ابوذر_غفاری #صحابہ_کرام #اسلامی_واقعہ #مولانا_شیخ_ادریس #اسلامی_بیان #صحابی_رسول #ایمان_افروز_واقعہ #اسلامی_کہانی #DeeniBayan #IslamicStory #HazratAbuZarGhafari #SahabaKaram #IslamicBayan #IslamicReminder #bayan #dahaqlaar #islamicstories حضرت ابوذر غفاریؓ کی وفات کا واقعہ حضرت ابوذر غفاریؓ کا اصل نام جندب بن جنادہ تھا۔ آپ قبیلہ غفار سے تعلق رکھتے تھے۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تو شروع ہی سے دینِ اسلام کے سچے اور بہادر داعی بن گئے۔ آپ ہمیشہ حق بات کہتے تھے، چاہے کوئی ناراض ہی کیوں نہ ہو جائے۔ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں حضرت ابوذرؓ دنیا کی محبت اور مال جمع کرنے کے خلاف بہت سخت نصیحتیں کرتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو مدینہ منورہ سے ربذہ نامی ایک ویران مقام پر رہنے کی اجازت دی گئی۔ وہاں آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ سادہ زندگی گزارنے لگے۔ وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن حضرت ابوذرؓ بیمار ہو گئے۔ جب بیماری زیادہ بڑھ گئی تو آپ کی بیوی بہت پریشان ہو گئی کیونکہ وہاں کوئی آدمی نہیں تھا اور نہ ہی کفن دفن کا انتظام تھا۔ حضرت ابوذرؓ نے اپنی بیوی سے فرمایا: غم نہ کرو، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میرے ایک صحابی کی موت ایسی جگہ ہوگی جہاں مسلمانوں کی ایک جماعت اس کا جنازہ پڑھائے گی۔ چنانچہ جب حضرت ابوذرؓ کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی راستے پر جا کر کھڑی ہو گئی۔ کچھ دیر بعد کوفہ سے آنے والے مسافروں کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا۔ اس قافلے میں جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بھی موجود تھے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو عورت نے بتایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابوذرؓ کا انتقال ہو گیا ہے اور یہاں کوئی جنازہ پڑھانے والا نہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ رو پڑے اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا تھا کہ ابوذر اکیلے چلیں گے، اکیلے مریں گے اور اکیلے ہی اٹھائے جائیں گے۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت ابوذرؓ کو غسل دیا، کفن پہنایا اور ان کا جنازہ پڑھ کر ربذہ میں دفن کر دیا۔ اس واقعے سے سبق دنیاوی مال و دولت سے بے رغبتی اختیار کرنی چاہیے ہمیشہ حق بات کہنا چاہیے اللہ کے نیک بندوں کا انجام عزت والا ہوتا ہے