У нас вы можете посмотреть бесплатно شعبان کی بدعات - پروفیسر عبدالرحمن طاھر حفظہ اللہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
شعبان ہجری سال کا آٹھواں مہینہ ہے۔ لفظ شعب اس وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں علیحدگی اختیار کی جاتی ہو۔ اہل عرب اس ماہ میں پانی کی تلاش میں دور نکل جاتے تھے اور انھیں ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا پڑتا تھا۔ شعبان کو مکرم بھی کہا جاتا ہے۔ شعبان کی پندرہویں شب کو عرف عام میں شب برأت بھی کہا جاتا ہے۔ اسلام سے نابلد بعض مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اس رات میں گناہ بخشے جاتے ہیں، عمریں بڑھائی جاتی ہیں، روزی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض مسلمان رات جاگ کر بلند آواز سے دعائیں کرتے ہیں۔ ان دعاؤں کو لوگوں نے از خود گڑھ لیا ہے۔ قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور روشنی و چراغاں کرتے ہیں، حلوہ بناتے ہیں اور قبروں پر پھول چڑھاتے ہیں۔ بیوہ عورت یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اس کے شوہر کی روح پندرہویں شعبان کی رات میں آتی ہے، اس لیے اس کے واسطے پسندیدہ کھانا پکاتی ہے۔ بعض علماء اس رات کے لیے شب قدر جیسی فضیلتیں بیان کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہن میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ شب قدر میں جس روح کے نزول کا ذکر قرآن مجید میں ہے اس سے مراد مُردوں کی روحیں ہیں۔ اس رات میں یہ لوگ شب بیداری کرتے، مسجدوں میں جمع ہوکر رات بھر نوافل پڑھتے اور اس رات قبروں کی زیارت کرتے ہیں۔ واعظین اس شب کی فضیلت میں یہ حدیث بیان کرتے ہیں: قُوْمُوْا لَیْلَہَا وَصُوْمُوْا نَہَارَہَا۔ یعنی اس رات میں نوافل پڑھو اور دن میں ر وزہ رکھو۔ پندرہویں شعبان کی رات کے بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں جن کا اثر آج انتہائی عروج پر ہے۔ شام و بصرہ کے تمام تابعین اور عباد و زہاد اس رات اجتماعی طور پر مسجدوں میں جاگنا، اچھے کپڑے پہننا، خشوع و خضوع کے ساتھ بکثرت عبادت کرنا مستحب سمجھتے تھے اور خود بھی اس پر کار بند ہوتے تھے۔ اس ضمن میں خالد بن معدان مکحول اور لقمان بن عامر کا نام بطور خاص آتا ہے جب کہ شام کے شہرۂ آفاق عالم اوزاعی اور دوسرے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ امور اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی طور پر درست ہیں۔ اس کے بر خلاف علمائے حجاز و فقہائے مدینہ پندرہویں شعبان کی رات کی بابت وارد ساری حدیثوں کو ضعیف موضوع اور اس رات مذکورہ بالا اعمال و افعال کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ (اقتضاء الصراط المستقیم لابن تیمیہ ۲/ ۱۲۶) ابن رجب فرماتے ہیں پندرہویں شعبان کی رات کے متعلق امام احمد کا کوئی کلام نہیں ہے لیکن ان سے دو ایسی روایتیں منقول ہیں، جن سے اس رات میں قیام کے استحباب پر استدلال کیا جاسکتا ہے اور دونوں روایتیں عیدین کی راتوں میں قیام سے متعلق ہیں۔ ایک روایت ہے کہ اس رات میں جماعت کے ساتھ قیام کرنا مستحب نہیں ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ سے منقول نہیں ہے اور دوسری روایت میں ہے کہ اس رات میں قیام مستحب ہے اور استدلال عبدالرحمن بن یزید بن الاسود کے فعل سے ہے جو تابعی ہیں۔ اس طرح پندرہ شعبان کی رات کا قیام نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب سے ثابت نہیں ہے لیکن تابعین شام کے کی ایک جماعت سے اس رات کا قیام ثابت ہے۔ (لطائف المعارف للحافظ ابن رجب بحوالہ التحذیر من البدع لابن باز، ص۲۳) خود ابن رجب کے کلام میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ پندرہ شعبان کی رات کی عبادت کے بارے میں حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے کچھ ثابت نہیں ہے۔ امام اوزاعی اور ابن رجب کا اس رات میں انفرادی طور پر عبادت اختیار کرنا غریب اور ضعیف ہے۔ اس لیے کہ کسی مسلمان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ جو چیز دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو اسے دین میں داخل کرے خواہ اس کا تعلق انفرادی عمل سے ہو یا اجتماعی عمل سے، اسے خفیہ کیا جائے یا اعلانیہ۔ اس کے لیے اﷲ کے رسول اﷲ ﷺ کا فرمان عام ہے: