У нас вы можете посмотреть бесплатно زکات کے احکام و مسائل - پروفیسر عبدالرحمن طاھر حفظہ اللہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
فریضۂ زکوٰۃ میں اکثر مسلمان سستی اور غفلت کا شکار ہو چکے ہیں اور مشروع طریقہ کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں حالانکہ اس کی اہمیت کو سب تسلیم کرتے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے ہے اور اس کے بغیر اسلام کی بنیاد قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ رسولِ کریم ﷺ کا فرمان ہے۔ اسلام میں جن پانچ امور کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے (۱) اللہ کی توحید اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اقرار (۲) نماز کی اقامت (۳) زکوٰۃ کی ادائیگی (۴) رمضان المبارک کے روزے (۵) بیت اللہ شریف کا حج۔ فوائد زکوٰۃ: فریضہ زکوٰۃ مسلمانوں پر (اللہ کا) ایک بہت بڑا احسان ہے اور آغوش اسلام میں آنے والوں کا نگہبان اور محافظ ہے۔ یہ بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ اس سے نادار مسلمانوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ دولت مندوں اور محتاجوں کے درمیان محبت اور اخوت کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ جو اس سے احسان کرتا ہے اس سے مودت اور محبت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ زکوٰۃ کا ایک بنیادی اور اصل مقصد یہ بھی ہے کہ اس سے طہارتِ نفس اور تزکیہ مال ہوتا ہے۔ منکرینِ زکوٰۃ کو وعید: دوسری طرف ایسے لوگوں کے حق میں سخت وعید آئی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی میں بخل سے کام لیتے ہیں یا سستی اور غفلت کا شکار ہوتے ہیں جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: سورة التوبة ''جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دو۔ قیامت کے روز ان کا مال لوہے کی سلاخوں میں تبدیل کیا جائے گا اور ان سلاخوں کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر (ان سلاخوں سے) ان کے پہلو، پیشانیاں اور پیٹھیں داغی جائیں گی (فرشتے انہیں ڈانٹ پلاتے ہوئے کہیں گے) یہ تمہارا جمع کردہ سرمایہ ہے۔ اب اس کا عذاب چکھو۔'' سید الکونین نے ارشاد فرمایا: ''جسے اللہ تعالیٰ نے مال کی نعمت سے نوازا لیکن اس نے زکوٰۃ ادا کرنے میں پس و پیش کیا تو اس کا مال قیامت کے روز ایک گنجے سانپ کی شکل میں نمودار ہو گا اس کے سر پر دو نشان ہوں گے۔ وہ اس کے گلے میں لپٹ جائے گا۔ پھر اس کے جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا۔ میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔'' پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ''جو لوگ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں بخل سے کام لیتے ہیں وہ اسے اپنے لیے بہتر مت خیال کریں وہ تو ان کے حق میں سراسر مضر اور نقصان دہ ہے کیونکہ جس مال پر وہ بخل کرتے ہیں وہ قیامت کے روز ان کے گلے میں طوق ہو گا۔'' زکوٰۃ کن چیزوں پر واجب ہے: زکوٰۃ چار قسم کے مال پر واجب ہے جو مندرجہ ذیل ہیں: 1. زمین کی پیداوار خواہ غلہ ہو یا پھل۔ 2. باہر چرنے والے چوپائے۔ 3. سونا اور چاندی۔ 4. سامانِ تجارت۔ ان چاروں میں سے ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ نصاب مقرر ہے۔ اگر مالِ نصاب سے کم ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ اناج اور پھلوں کا نصاب پانچ دسق ہے۔ نبی ﷺ کے عہد مبارک کے صاع کے حساب سے ایک دسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ کھجور، منقہ، گندم، چاول اور جَو وغیرہ میں حضرت رسالت مآب ﷺ کے زمانہ کے تین سو صاع میں زکوٰۃ واجب ہوتی تھی۔ سونا چاندی کے زیورات کا حکم: اس کے علاوہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام والتسلیمات سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک عورت کے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے تو اس سے دریافت کیا۔ ''کیا تو اس کی زکوٰۃ دیتی ہے؟'' اس نے جواب دیا نہیں۔ پھر آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تجھے ان کے بدلے دو آگ کے کنگن پہنائے۔ یہ سن کر اس نے دونوں کنگن اتار کر پھینک دیئے اور کہا ان پر میرا کوئی حق نہیں۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ہو چکے ہیں۔ مالِ تجارت کا حکم: اب رہا معاملہ عروض کا تو اس سے مراد ہر وہ سامان ہے جو تجارت کی غرض سے خریدا جائے۔ اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ اس کی قیمت کا حساب لگا کر چالیسواں حصہ نکالا جائے خواہ موجودہ وقت اس کی قیمت کے برابر ہو یا کم و بیش ہو (یعنی زکوٰۃ موجودہ مالیت پر لگے گی کیونکہ اس سلسلے میں حدیث مذکور ہے۔ ''یعنی آپ کا حکم تھا کہ جو سامان ہم نے تجارت کی غرض سے رکھا ہوا ہے اس سے زکوٰۃ ادا کریں۔'' ایسی زمین، مکان، موٹر کاریں اور پانی کی بلند ٹینکیاں جو تجارت کی غرض سے ہوں سبھی پر اس حکم کا اطلاق ہوتا ہے۔ آدابِ زکوٰۃ: زکوٰۃ اللہ کا حق ہے کسی غیر مستحق کو دینا جائز نہیں۔ اس سے کوئی ذاتی مفاد حاصل نہ کرے۔ کسی کی تکلیف سے بچاؤ کی خاطر بھی اسے نہ دے اور اپنے مال کی حفاظت اور مذمت سے ڈرتے ہوئے کسی غیر مستحق کو نہ دے بلکہ مسلمان کو چاہئے کہ زکوٰۃ مستحقین میں تقسیم کرے۔ اس لئے کہ وہ اس کے حقدار ہیں۔ ان سے کوئی ذاتی غرض وابستہ ہرگز نہ ہو۔ جب زکوٰۃ ادا کرے تو دل میں تنگی اور بخل محسوس نہ کرے بلکہ خوشی خوشی ادا کرے اور اس سے صرف اللہ کی رضا جوئی مقصود ہو تاکہ اس کا فرض ادا ہو جائے اور اجر عظیم کا مستحق ہو۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں فرمایا ہے۔ مصارفِ زکوٰۃ: سورة التوبة زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کا حق ہے جو فقیر ہوں، مسکین ہوں، زکوٰۃ کی وصولی پر مامور ہوں، نو مسلم ہوں جن کی تالیفِ قلوب مقصود ہو، بے گناہ قیدی جن کی رہائی مقصود ہو، مقروض ہوں یا مسافر ہوں۔ مزید براں اللہ کے راستہ میں خرچکرنا زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اس آیت کریم کو ان دو ناموں پر ختم کرنے میں بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب با خبر ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ زکوٰۃ کا کون مستحق ہے اور کون غیر مستحق ہے۔ وہ اپنی شریعت میں حکمت والا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس کے مناسب اور موزوں مقام پر رکھتا ہے اگرچہ لوگ اس کے فلسفہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس لئے بندوں کو چاہئے کہ اس کی شریعت پر اطمینان کا اظہار کریں اور اس کا حکم بلا چون و چرا تسلیم کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین کو سمجھنے کی توفیق بخشے اور معاملات میں صداقت پر قائم رکھے۔