У нас вы можете посмотреть бесплатно خلاصہ قرآن - پارہ نمبر 8 - پروفیسر عبدالرحمن طاھر حفظہ اللہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
آٹھویں پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تو بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے، سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی، جب مشرکین مکہ اور کفارِ عرب نے رسول کریمﷺ سے مختلف طرح کی نشانیوں کو طلب کرنا شروع کیا۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہئیں، کبھی وہ کہتے کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے آبا و اجداد جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کافروں کی نشانیاں طلب کرنے والی بات کوئی حق پرستی پر مبنی نہیں بلکہ یہ تو صرف اور صرف حق سے فرار حاصل کرنے کیلئے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔ قتل ِ اولاد کی مذمت اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں،جنہوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے جائز کیے ہو ئے رزق کو حرام قرار دیا۔ فصلوں کی کٹائی اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب فصلوں کی کٹائی کا دن آئے، اس دن اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا کرو۔ جب اللہ تعالیٰ ہر چیز عطا فرماتے ہیں تو اس کا حق بھی بروقت ادا ہونا چاہیے۔ نبی کریمؐ کو حکم اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺکو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ بے شک میری نمازیں، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا، سبھی کچھ اللہ رب العالمین کیلئے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے سپرد کرنے والا ہوں۔ سورۃ الاعراف سورۂ انعام کے بعد سورۂ اعراف ہے۔ اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام جو قرآنِ مجید آپ پر نازل کیا گیا ہے، یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو (اللہ کے عذاب) سے ڈرائیں اور اس میں مومنوں کیلئے نصیحت ہے۔ یہ وحی اس لیے نازل کی گئی ہے کہ آپ اس کی پیروی کریں۔ اللہ تعالیٰ کا انعام اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اور ان کیلئے مختلف طرح کے پیشے بنائے اور پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں۔ جہنم کے مناظر اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کے مناظر کا بھی ذکر کیا ہے کہ اہلِ جنت جہنمیوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے: ہم پا چکے ہیں، جس کا وعدہ ہمارے رب نے کیا تھا، کیا تم کو بھی وہ کچھ مل گیا، جس کا تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ تو وہ جواب میں کہیں گے: ہاں! اس پر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر، اسی طرح اہلِ نار جنتیوں سے تقاضا کریں گے کہ اللہ نے ان کو جو پانی اور رزق عطا کیا ہے، اس میں سے ان کو بھی دیا جائے تو اہلِ جنت کہیں گے: اللہ نے اس کھانے اور پینے کو اہل نار پر حرام کر دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین! کبیرہ گناہوں کا ذکر اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بعض کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شرک نہیں کرنا چاہیے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے، اپنی اولاد کو بھوک کے خوف سے قتل نہیں کرنا چاہیے، فحاشی چاہے چھپی ہوئی ہو، چاہے علانیہ ہو، اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے، کسی کو ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے، یتیم کے مال کو نا جائز طریقے سے استعمال نہیں کرنا چاہیے، ترازو کو صحیح طریقے سے پکڑنا چاہیے، جب بھی بات کی جائے عدل سے کرنی چاہیے، چاہے قریبی عزیز ہی اس کی زد میں آئیں، اللہ تعالیٰ سے کیے گئے یا اس کے نام پر کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور ان تمام نصیحتوں کا بنیا دی مقصد انسانوں میں عقل اور تقویٰ کو پیدا کرنا ہے۔ اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی بڑی شدت سے مذمت کی ہے، جو اپنے دین میں تفرقہ پیدا کرتے اور گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان کے کیے سے آگاہ کرے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت کا بھی ذکر کیا ہے کہ جو ایک بُرائی کرے گا، اس کو ایک ہی کا بدلہ ملے گا، لیکن جو ایک نیکی کرے گا، اُسے اس جیسی دس نیکیاں ملیں گی اور انسانوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اصحابِ اعراف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پارے میں اصحابِ اعراف کا بھی ذکر کیا ہے۔ اصحاب اعراف ایسے لوگ ہوں گے، جو جہنم کے عذاب سے محفوظ ہوں گے، لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام ہو جائیں گے۔ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کو پکارتے رہنا چاہیے۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ اس پارے کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے،جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں، ان کا تفصیلی ذکر سورۂ ہود میں ہو گا۔ حرام چیزیں اس پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا، جو انسانوں پر حرام ہیں۔ پہلا رزق جو انسانوں پر حرام ہے وہ مردار ہے۔ اسی طرح بہتا ہوا خون انسانوں پر حرام ہے، خنزیر کا گوشت بھی انسانوں پر حرام ہے اور اسی طرح غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ بھی انسانوں پر حرام ہے۔