У нас вы можете посмотреть бесплатно ۱۰۰ سال بعد جاگنے والے نبی | حضرت عزیر علیہ السلام کی حیران کن داستان | قرآن کا زندہ معجزہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
۱۰۰ سال بعد جاگنے والے نبی | حضرت عزیر علیہ السلام کی حیران کن داستان | قرآن کا زندہ معجزہ | موت کے بعد زندگی کا زندہ ثبوت | اللہ کی قدرت کا انوکھا مظاہرہ اگر کوئی آپ سے کہے کہ ایک انسان ۱۰۰ سال تک سوتا رہا، اس کا کھانا خراب نہیں ہوا، اس کا گدھا مر گیا اور پھر دوبارہ زندہ ہو گیا، اور جب وہ شخص اٹھا تو اسے لگا کہ بس ایک دن گزرا ہے، تو آپ شاید یقین نہ کریں۔ لیکن یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ قرآنِ کریم کا بیان کردہ وہ سچا واقعہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کے ساتھ پیش کیا اور جسے قیامت پر دلیل کے طور پر بیان فرمایا۔ یہ وہ واقعہ ہے جو انسانی عقل کو چیلنج کرتا ہے اور ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔ حضرت عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک عظیم نبی تھے جو اللہ کی عبادت اور تورات کے علم میں اپنے زمانے میں بے مثال تھے۔ ایک دن وہ اپنے گدھے پر سوار ایک ایسے شہر کے قریب سے گزرے جو مکمل طور پر تباہ اور ویران ہو چکا تھا۔ دیواریں گری پڑی تھیں، گھر کھنڈر بن چکے تھے اور ہڈیاں ہر طرف بکھری پڑی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عزیر علیہ السلام کے دل میں ایک سوال اٹھا جو ایک سوچنے والے انسان کے دل میں فطری طور پر اٹھتا ہے۔ قرآنِ کریم نے سورۃ البقرہ میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ اللہ اس بستی کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ یہ سوال کفر کا اظہار نہیں تھا بلکہ ایک نبی کی طرف سے اللہ کی قدرت کو مزید قریب سے دیکھنے کی خواہش تھی۔ اللہ نے اس سوال کا جواب دینے کے لیے ایک ایسا انداز اختیار کیا جس کی مثال پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ اللہ نے انہیں وہیں موت دے دی۔ ۱۰۰ سال گزر گئے۔ دنیا بدل گئی، لوگ بدل گئے، نسلیں بدل گئیں۔ جو بستی کبھی ویران تھی شاید وہ دوبارہ آباد ہو گئی یا کوئی اور تبدیلی آ گئی۔ اور پھر اللہ کا حکم ہوا اور حضرت عزیر علیہ السلام کی روح واپس آئی۔ وہ اٹھے، ادھر ادھر دیکھا اور انہیں محسوس ہوا جیسے وہ بس تھوڑی دیر کے لیے سوئے ہوں۔ اللہ نے ان سے پوچھا کہ تم کتنی دیر رہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ اللہ نے فرمایا کہ نہیں، تم ۱۰۰ سال رہے۔ اب اپنا کھانا اور پانی دیکھو جو خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو دیکھو۔ حضرت عزیر علیہ السلام نے دیکھا تو ان کے کھانے اور پانی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا، انگور تازہ تھے، کھانا خراب نہیں ہوا تھا لیکن گدھے کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔ پھر اللہ نے ان کے سامنے وہ منظر دکھایا جو کسی انسان نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ گدھے کی بکھری ہڈیاں جمع ہونے لگیں، آپس میں جڑنے لگیں، ان پر گوشت چڑھنے لگا اور پھر اللہ نے اس میں جان ڈال دی اور گدھا زندہ ہو کر کھڑا ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عزیر علیہ السلام پر کیا گزری؟ قرآنِ کریم نے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کا ایمان نظر سے تازہ ہو گیا۔ وہ پہلے سے مومن تھے اور نبی تھے لیکن اب انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ مردوں کو زندہ کرنے پر کیسے قادر ہے۔ یہ واقعہ قیامت کی سچائی کا ایک زندہ ثبوت بن گیا۔ اس واقعے میں بہت سے حیران کن پہلو ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ پہلا پہلو یہ ہے کہ کھانا ۱۰۰ سال تک خراب کیوں نہیں ہوا؟ یہ اللہ کی قدرت کا مظاہرہ تھا کہ جس نے گندم اور انگور بنائے وہی انہیں ۱۰۰ سال تک محفوظ رکھنے پر بھی قادر ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت عزیر علیہ السلام کو ۱۰۰ سال ایک دن جیسے کیوں لگے؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ موت کے بعد وقت کا احساس دنیا سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو گدھے کا زندہ ہونا ہے۔ اللہ نے یہ منظر حضرت عزیر علیہ السلام کو اس لیے دکھایا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ بکھری ہوئی ہڈیاں کیسے جمع ہو کر مکمل جسم بنتی ہیں اور اس میں جان کیسے آتی ہے۔ یہ قیامت کے دن کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جو اللہ نے دنیا میں ہی دکھا دیا تاکہ کوئی شک باقی نہ رہے۔ حضرت عزیر علیہ السلام کی یہ داستان آج کے دور میں بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی اس وقت تھی۔ آج بھی لوگ سوال کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے، ہڈیاں گل جاتی ہیں تو دوبارہ کیسے جمع ہوں گی؟ اللہ نے اس واقعے میں یہ سوال پہلے ہی جواب دے دیا ہے کہ جس ذات نے ایک گدھے کی بکھری ہوئی ہڈیوں کو اکٹھا کر کے اس میں جان ڈالی وہ پوری انسانیت کو دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ہوگی؟ اس واقعے کا ایک اور پیغام یہ ہے کہ اللہ کبھی کبھی اپنے نیک بندوں کو خاص انداز میں آزماتا اور سکھاتا ہے۔ حضرت عزیر علیہ السلام پہلے سے مومن اور نبی تھے لیکن اللہ نے انہیں براہِ راست تجربہ کروایا۔ یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ اپنے پیارے بندوں کو کبھی کبھی ایسے تجربات سے گزارتا ہے جو ان کے ایمان کو نظر کی سطح پر لے آتے ہیں۔ حضرت عزیر علیہ السلام کی داستان کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ موت کے بعد زندگی یقینی ہے۔ قیامت آنی ہے اور اللہ ہر مرے ہوئے انسان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارنا چاہیے کہ ایک دن اٹھنا ہے اور اللہ کے سامنے حساب دینا ہے۔ آج کی ہر نیکی اس دن کام آئے گی اور آج کا ہر گناہ اس دن سامنے آئے گا۔ اس ویڈیو کو Like کریں، Channel کو Subscribe کریں اور Bell Icon ضرور دبائیں۔ کمنٹس میں بتائیں کہ اس واقعے کا کون سا پہلو آپ کو سب سے زیادہ حیران کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کو سمجھنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔