У нас вы можете посмотреть бесплатно حضرت ادریس علیہ السلام | دنیا کے پہلے کاتب | وہ نبی جو زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
انسانی تاریخ میں لکھنے پڑھنے کا آغاز کہاں سے ہوا؟ قلم کس نے پہلی بار اٹھایا؟ تارے، سیارے اور آسمانی علوم کو سب سے پہلے کس نے سمجھا؟ کپڑا سینا، شہر بسانا اور حساب کتاب کرنا، یہ فنون انسان نے کہاں سے سیکھے؟ ان تمام سوالوں کا جواب ایک نام میں ہے اور وہ نام ہے حضرت ادریس علیہ السلام۔ یہ وہ عظیم نبی ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے صدیق اور نبی کہہ کر کیا اور جنہیں بلند مقام پر اٹھا لینے کا اعلان خود اللہ نے فرمایا۔ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے اس دنیا میں تشریف لائے۔ کچھ روایات کے مطابق وہ حضرت شیث علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حضرت نوح علیہ السلام ان کی پانچویں نسل میں تھے۔ وہ اس وقت آئے جب انسانیت کو علم اور رہنمائی کی سخت ضرورت تھی اور اللہ نے انہیں وہ علم دیا جو اس سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا تھا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کو سب سے پہلی اور سب سے اہم خصوصیت یہ حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا۔ یہ وہ وقت تھا جب انسان بات تو کر سکتا تھا لیکن اپنی باتوں کو محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں جانتا تھا۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے لکھنے کا فن ایجاد کیا یا اللہ کی طرف سے سیکھا اور اسے لوگوں میں پھیلایا۔ سوچیے کہ اگر لکھنا نہ ہوتا تو نہ قرآن محفوظ ہوتا، نہ احادیث، نہ علم اور نہ تاریخ۔ لکھنے کا یہ فن دراصل انسانی تمدن کی بنیاد ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کی دوسری بڑی خصوصیت علمِ نجوم یعنی ستاروں اور سیاروں کا علم ہے۔ وہ آسمان کو دیکھتے اور اس کے رازوں کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ ستارے کیسے چلتے ہیں، موسم کیسے بدلتے ہیں اور اوقات کیسے گنے جاتے ہیں۔ علمِ حساب، علمِ ہیئت اور وقت ناپنے کا فن، یہ سب علوم حضرت ادریس علیہ السلام سے انسانیت کو ملے۔ آج کی جدید سائنس جن بنیادوں پر کھڑی ہے وہ بنیادیں ہزاروں سال پہلے حضرت ادریس علیہ السلام نے رکھیں۔ تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ روایات کے مطابق حضرت ادریس علیہ السلام نے سب سے پہلے کپڑا سیا۔ ان سے پہلے لوگ جانوروں کی کھالیں پہنتے تھے لیکن حضرت ادریس علیہ السلام نے کپڑا بنانے اور سینے کا فن سیکھا اور لوگوں کو سکھایا۔ اس کے علاوہ تراز یعنی ترازو اور پیمائش کا استعمال بھی انہی سے شروع ہوا۔ آج جب ہم کوئی کپڑا پہنتے ہیں تو اس فن کی ابتدا اس عظیم نبی سے ہوئی تھی۔ حضرت ادریس علیہ السلام کی عبادت کا حال کیا تھا؟ احادیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ معراج کی رات جب آسمانوں کا سفر کر رہے تھے تو چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے خوش آمدید کہا۔ یہ ملاقات اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام اللہ کے نزدیک کتنے اعلیٰ مقام پر فائز تھے کہ قیامت تک وہ آسمان پر رہیں گے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ ایک روایت کے مطابق موت کے فرشتے یعنی عزرائیل علیہ السلام نے اللہ سے خواہش ظاہر کی کہ وہ حضرت ادریس علیہ السلام سے ملنا چاہتے ہیں کیونکہ حضرت ادریس علیہ السلام کی عبادت آسمانوں میں مشہور تھی۔ عزرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آئے اور دوستی ہو گئی۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے عزرائیل علیہ السلام سے خواہش ظاہر کی کہ وہ انہیں آسمان کی سیر کرائیں اور جنت و جہنم دکھائیں۔ عزرائیل علیہ السلام انہیں لے کر آسمان کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں چوتھے آسمان پر آ کر عزرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آج اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کی روح یہاں قبض کروں۔ چنانچہ حضرت ادریس علیہ السلام کو وہیں آسمان پر موت آئی اور وہیں رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا کہ ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا۔ یہ بلند مقام چوتھے آسمان کا وہ مقام ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات انہیں دیکھا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا نام بھی بہت معنی خیز ہے۔ ادریس کا مادہ درس سے ہے جس کا مطلب ہے پڑھنا پڑھانا اور سکھانا۔ ان کا نام ہی بتاتا ہے کہ وہ استاد اور معلم کی حیثیت سے آئے تھے۔ انہوں نے انسانیت کو لکھنا پڑھانا سکھایا، علوم سکھائے اور اللہ کی طرف بلایا۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ یونانی علم میں جس عظیم فلسفی کو ہرمیز یا ہرمس کہا جاتا ہے وہ دراصل حضرت ادریس علیہ السلام ہی ہیں کیونکہ دونوں کی خصوصیات بہت ملتی جلتی ہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سورۃ مریم میں فرمایا کہ اور اس کتاب میں ادریس کو یاد کرو، بے شک وہ بہت سچے اور نبی تھے۔ اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا۔ صرف دو آیات میں اللہ نے تین اہم باتیں کہیں یعنی پہلی یہ کہ وہ صدیق تھے یعنی بالکل سچے، دوسری یہ کہ وہ نبی تھے اور تیسری یہ کہ انہیں بلند مقام دیا گیا۔ اللہ کی طرف سے یہ تعریف کتنی بڑی سند ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کی زندگی سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ علم اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور جو شخص علم سیکھے، سکھائے اور پھیلائے وہ اللہ کے ہاں بلند مقام پاتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ عبادت اور دنیاوی کام ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے دنیاوی علوم بھی سیکھے اور اللہ کی عبادت بھی اتنی کی کہ آسمانوں میں ان کی عبادت کی خوشبو مشہور تھی۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ قلم بہت طاقتور ہے۔ اللہ نے قرآنِ کریم میں قلم کی قسم کھائی اور سب سے پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے قلم کا پہلا استعمال کیا تو گویا وہ اس عظیم علمی روایت کے پہلے محافظ تھے جو آج تک چلی آ رہی ہے۔ چوتھا سبق یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے قریب ہو، کثرت سے عبادت کرے اور سچائی پر قائم رہے اللہ اسے دنیا میں بھی بلند کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔ حضرت ادریس علیہ السلام آج بھی چوتھے آسمان پر اللہ کی رحمت میں ہیں، یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ نے اپنے اس نیک بندے کو دیا۔