У нас вы можете посмотреть бесплатно افسانہ فینسی ہیئر کٹنگ سیلون غلام عباس۔ Fancy Hair Cutting Saloon. Ghulam Abbas или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
افسانہ فینسی ہیئر کٹنگ سیلون تحریر غلام عباس تجزیہ و خلاصہ مہربان کوہاٹی افسانہ فینسی ہیئر کٹنگ سیلون میں غلام عباس نے بظاہر چار حجاموں اور ایک منشی کی کہانی ذکر کی ہے۔ یہ پانچوں افراد ہندوستان سے آئے مہاجر ہیں اور کام کاج کے سلسلے میں سرگرداں ہیں۔ پہلے چار حجام کسی جگہ پراتفاقا اکٹھے ہوتے ہیں بات چیت میں یہ راز کھلتا ہے کہ سب ہی روزی کمانے کے لیے کسی کام کی تلاش میں ہیں۔ مزید یہ کہ جب چاروں ہی کا ایک ہی پیشہ ہے تو کیوں نہ اکٹھے بال کاٹنے کا کاروبار شروع کیا جائے۔ یہ ایسی رائے تھی جس پر سب نے اتفاق کیا۔ چاروں نے کسی نہ کسی طرح اپنے لیے ضروری اوزار جمع کیے اور بال کٹوانے کے لیے کمر بستہ ہوگئے۔ انھوں نے اپنے مسائل حل کرنے کے لیے سرکار سے کسی دوکان کے عطا ہونے کی درخواست بھی دی جو کافی تگ ودو کے بعد منظور ہوگئی اور ایک بھاگے ہوئے حجام کی دکان ان کو دے دی گئی۔ دکان ملنے سے ان کی خوشی دوبالا ہوگئی۔ لوگوں کو راغب کرنے کے لیے انھوں نے نرخ کم رکھے۔ آہستہ آہستہ ان کا کاروبار چل نکلا۔ ایک دن ایک منشی نے ان سے کوئی کام دینے کی درخواست کی جس کو انھوں نے صرف دو وقت روٹی کے معاوضہ پر رکھ لیا۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک دن استاد حجام جو دوسروں سے عمر میں بڑا تھا اور اپنے فن میں بھی تاک تھا اس لیے سب اس کو استاد کہتے تھے، اپنے گھر والوں کو شہر میں لانے کے لیے چلا گیا اور پورے پندرہ دن بعد آیا۔ گھر میں کافی مسائل تھے ان کا رونا رویا اور اپنا حصہ پورا وصول کرلیا۔ گھر کرائے پر لینے کی وجہ سے استاد حجام نے دکان میں کھانا کھانے سے معذرت کرلی۔ وہ اب کھانا کھانے گھر جاتا اور سوتا بھی گھر میں ہی تھا جس کی وجہ سے اکثر صبح دیر سے آتا اور شام کو جلدی چلا جاتا لیکن کمائی میں حصہ برابر کا حاصل کرتا۔ باقی حجاموں کو اس کے اس ردعمل پر اعتراض ہونے لگا۔ انھیں یہ بھی محسوس ہوا کہ استاد ان کی نسبت زیادہ رقم وصول کرتا ہے۔ لہذا انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ سب کو برابر کا حصہ ملے۔ پھر منشی کو بھی حساب کتاب میں شامل کرلیا۔ وہ سب کو برابر برابر حصہ دے دیتا۔ آخر استاد حجام سے یہ سب برداشت نہ ہوا اس نے بے شک کام میں کم وقت لگانے کی غلطی کو تسلیم کیا لیکن ساتھ یہ بھی جتایا کہ اس جیسا استاد ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ گاہک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس سے حجامت کروائے اور اس کی وجہ سے ہی یہاں گاہک آتے ہیں۔ استاد نے یہ تجویز پیش کی کہ ہر ایک کو مہینے میں تنخوا دی جائے۔ استاد ۱۲۰ روپے دوسرا استاد ۱۰۰ روپے، تیسرا اسی روپے اور چوتھا ساٹھ روپے وصول کرےگا۔ سب اس پر راضی ہوگئے۔ پیسے ایک بکسے میں جمع ہونے لگے۔ مقررہ تنخوا کی لالچ میں چاروں نے کام پر توجہ دینا کم کردی جس کی وجہ سے ان کے گاہک کم پڑگئے۔ مہینے بعد پتہ چلا کہ ان کی کمائی سے تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہیں۔ منشی نے ان کو سو روپے قرض دیا تاکہ کاروبار چل پڑے۔ اگلے مہینے پھر کمائی کم ہوگئی۔ منشی نے کسی سے قرض لے کر ان کی تنخواہیں پوری کیں لیکن ان کا کاروبار خسارے کا شکار ہی رہا۔ آخر منشی نے ان کو ایک تجویز دی کہ تم لوگ اگر کاروبار کامیاب کرنا چاہتے ہو تو ہر ایک کی تنخوا بیس بیس روپے کم کرنا ہوگی۔ منشی کی یہ تجویز سن کر سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے لیکن زیادہ اخراجات کے عادی بننے کی وجہ سے وہ کم تنخوا لینے پر راضی نہ تھے۔ اس پورے افسانے میں غلام عباس نے پاکستان کی ناکام معاشی منصوبہ بندی کی تصویر پیش کی ہے۔ ملک کا مقننہ ، عدلیہ اور انتظامیہ سب بے حس بن چکے ہیں۔ ان کے اپنے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ ملکی معیشت دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے یہ لوگ قرضے پر قرضہ وصول کر رہے ہیں جبکہ ملک عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں تلے اتنا دب چکا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ افسانے میں منشی کا کردار انتہائی گھناونا ہے۔ وہ اپنی بے سر وسامانی کا ذکر کرکے اپنی جگہ بناتا ہے لیکن جب کاروبار میں مندی آتی ہے تو اپنی رقم بطور قرضہ ان کو دے دیتا ہے۔ منشی کی اس رقم سے ان کی ہوس اور لالچ بڑھ جاتی ہے۔ ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرنے کی وجہ سے ٹیم ورک کا فقدان بھی ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا رہا ہے لیکن وہ اپنی روش نہیں بدلتے اور دکان پر قرضے کا بوجھ بڑھانے کا اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ملک خداداد پاکستان بھی اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہے۔ اگر یہ تبصرہ آپ کو پسند آیا ہو تو اسے ضرور لائک کریں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور چینل سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔ ملتے ہیں آئندہ ویڈیو میں خداحافظ۔