У нас вы можете посмотреть бесплатно سبحان اللہ کی فضیلت |ہزار نیکیاں |ہزار گناہ معاف| تالیف و پیشکش |فضیلۃ الشیخ محمد منیر قمر حفظہ اللہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Mehran islamic info سبحان اللہ کی عظمت وفضیلت تسبیح کا کلمہ سبحان الله قرآن کریم کے متعدد مقامات پر آیا ہے مثلاً ا۔ سورہ یوسف، آیت [۱۰۸] ۲۔ سورۃ الانبیاء، آیت (۲۲) ۳- سورة المؤمنون، آیت [۹] ٤۔ سورۃ النمل، آیت (۸) ۵- سورة القصص، آیت (٩١) ٦ - سورة الروم، آیت (٨) ٧ - سورۃ الصافات، آیت (۱۵۹] ٨- سورة الطور، آیت [۳۳] ۹- سوره الحشر، آیت (۲۳) ٪اس کلمے کی عظمت وفضیلت کا یہ عالم ہے کہ سو بار سبحان اللہ کہنے سے ایک ہزار نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور ایک ہزار گناہ معاف ہوتے ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم، سنن ترمذی ی اور مسند احمد میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کیا تم لوگ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہو؟ کسی صحابی نے عرض کیا: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !) ہم ایک ہزار نیکیاں کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((يسبح مائة تسبحة فيكتب له الف حسنة ويحط عنه الف خطيئه)) اگر کوئی شخص سو بار سبحان اللہ کہے تو اس کے نامعہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ایک ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔" اسی طرح "سبحان اللہ کا ایک مختصر ذکر و وظیفه وہ بھی ہے جو اجر وثواب میں نماز فجر سے لیکر صلوۃ الضحی ( نماز چاشت) تک کے تمام طویل وظیفوں سے افضل ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم، سنن ابو داود، ابن ماجہ اور صحیح ابن خزیمہ میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجرکی نماز کے لیے گھر سے نکلے تو وہ (حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا) نماز کی جگہ پر بیٹی ذکر و وظیفہ کر رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اس وقت تک اپنے مصلے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " جوریہ جب سے میں (مسجد) گیا ہوں تب سے تم اسی حالت میں بیٹھی (وظیفہ کر رہی ہو؟" حضرت جوہر یہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں نے تمھارے بعد ( تم سے رخصت ہونے کے بعد ) ایسے چار کلمے تین تین بار کہے ہیں کہ اگر ان کا وزن تمھارے آج کے سارے دن کے وظیفہ سے کیا جائے تو وہ ( چار کلمے ) بھاری ہو جا ئیں ۔ وہ کلمے یہ ہیں سبحان اللهِ عدَدَ خلقه، سُبْحَانَ اللهِ رِضا نفسہ، سبحان الله زنة عرشه، سُبْحَانَ اللهِ مِدَادَ كَلِمَاتہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے برابر تسبیح بیان کرتا ہوں، اللہ تعالی کے راضی ہونے تک میں اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتا ہوں ۔ اللہ تعالی کے عرش کے وزن کے برابر میں تسبیح بیان کرتا ہوں، اللہ کے کلمات کو تحریر کرنے کے لیے جتنی سیاہی مطلوب ہے اس مقدار کے برابر میں اللہ تعالی کی تسبیح کرتا ہوں ۔" ایسے ہی سبحان اللہ کے ساتھ الحمد للہ کہنا زمین و آسمان کے در میان ساری جگہ کو نیکیوں سے بھر دیتا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم سنن ترمذی اور مستند احمد میں حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (الطهور شطر الإيمَانِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تمَلَانِ أَوْ تملا بين السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) طہارت نصف ایمان ہے، سبحان اللہ اور الحمد لله کہنا زمین و آسمان کے درمیان ساری جگہ کو (نیکیوں سے ) بھر دیتا ہے۔" اس حدیث میں آگے یہ الفاظ بھی مذکور ہیں: نماز (دنیاو آخرت میں چہرے) کا نور ہے، صدقہ دلیل خیر اور صبر نور صراط ہے۔ قرآن مجید (قیامت کے روز ) تیرے حق میں یا تیرے خلاف گواہی دے گا، ہر آدمی صبح اٹھتا ہے تو اس کی جان گروی ہوتی ہے یا تو وہ ( نیکی کر کے ) آزاد کرا لیتا ہے ( یا گناہ کر کے ) ہلاک کرلیتا ہے۔" صرف ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے جنت میں ایک درخت لگتا ہے، جیسا کہ (لا الله الا اللہ) کی عظمت کے ضمن میں حدیث ذکر کی جاچکی ہے۔