У нас вы можете посмотреть бесплатно لا الہ الا اللہ کی عظمت و فضیلت حدیث کی روشنی میں |تالیف و پیشکش |فضیلۃ الشیخ محمدمنیرقمر حفظہ اللہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Mehran islamic info بعض قرآنی کلمات کی عظمت و فضیلت (لا إله إلا الله ) کی عظمت وفضیلت: کلمہ توحيد (لا إله إلا الله) قرآن کریم کے دو مقامات پر آیا ہے، جن میں سے پہلا سورۃ الصافات آیت (۳۵)، اور دوسرا سورۂ محمد آیت (۱۹) ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث سے اس کلمہ (الا إِلَهَ إِلَّا الله) کی عظمت واہمیت کا پتا چلتا ہے، حتی کہ ایک حدیث میں ہے کہ خلوص دل سے اس کا اقرار جنت میں لے جانے کا باعث ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (من مات وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لا إله إلا الله دخل الجنه) (صحیح مسلم ١٣٦، صحيح الجامع ٦٥٥٢) جو شخص اس حال میں مرے کہ اسے (لا اله الا اللہ) اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں" کا علم (و یقین) ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ اسی طرح موت کے وقت (لا إله إلا الله) کہنے والا بھی جنتی ہے۔ چنانچہ سنن ابو داود، مسند احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من كان آخر كلامه لا إِلهَ إِلَّا الله دخل الجنة)) (سنن أبي داؤد ٣٦٧٣، صحيح الجامع: ٦٤٧٩) " مرنے کے وقت جس کی زبان پر آخری الفاظ(لا إِلَهَ إِلَّا الله) ہوں گے وہ جنت میں جائے گا۔ بعض احادیث میں آیا ہے کہ (لا إله إلا الله) کا اقرار قیامت کے روز شفاعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا باعث ہوگا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (أَسْعَدُ النَّاسَ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القيامةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله خالصاً من قلبہ أو نفسية) (صحيح البخاري: ٩٩) قیامت کے روز میری سفارش سے فیض یاب ہونے والے لوگ وہ ہیں جنھوں نے سچے دل سے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) جی جان سے لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کیا۔ قرب الٰہی ہر مسلمان کی تمنا ہے۔ ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے (لا إله إلا الله) کا کثرت سے وظیفہ اللہ تعالی کی قربت کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ سنن ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَا قَالَ عَبْدٌ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ قَط مُخلِصاً إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السماء حتى تفضي إلى العَرْشِ مَا اجتنب الكبائر)) سنن الترمذی: ٢٨٣٩، صحيح الجامع ٦٥٤٨) جب بندہ سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔" اذکار مسنونہ تو بکثرت ہیں لیکن (لا إِلَهَ إِلَّا اللہ سب سے افضل ذکر ہے، جیسا کہ سنن ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أفضل الذكر: لا إله إلا الله، وأفضل الشكر: الحمد لله)) (السلسلة الصحيحة، ١٤٩٧: صحيح الجامع، ١١٠٥:) "بہترین ذکر لا الہ إلا الله ہے اور بہترین شکر الحمد للہ " ہے۔" حصول جنت ہر مسلمان کا ارمان ہے اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ کہنے سے جنت میں ایک درخت لگتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معراج کی رات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف سے اپنی امت کو سلام پہنچانا اور انھیں بتانا کہ جنت کی زمین بڑی زرخیز ہے اور اس کا پانی بڑا ثمر آور ہے، اس کی جگہ خالی ہے: ( وأن غراسها سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر) (سنن الترمذي ٣/ ٢٧٥٥) اور اس جنت میں درخت لگا " سبحان الله"، الحمد لله"، لا الہ الا الله"، اور "الله اکبر کہنا ہے۔"