У нас вы можете посмотреть бесплатно ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا انکار کرنے والے پولیس افسران کے خلاف فوجداری و محکمانہ کارروائی или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
ایف آئی آر کے اندراج میں جان بوجھ کر تاخیر یا انکار کرنے والے پولیس افسران کے خلاف قانون کے تحت فوجداری اور محکمانہ دونوں نوعیت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی پولیس افسر کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے میں دانستہ تاخیر کے نتیجے میں جرم کے شواہد ضائع، مٹ یا متاثر ہو جائیں، تو یہ عمل Pakistan Penal Code کی دفعہ 201 کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ شواہد کے ضائع ہونے میں پولیس افسر کی دانستہ کوتاہی یا مداخلت شامل تھی، تو اس کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں یہ قانونی مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ تاخیر ملزم کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے کی گئی، الا یہ کہ افسر اس کے برعکس ثابت کرے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور مجسٹریٹس، مناسب کارروائی کے بعد، ایسے افسران کے خلاف دفعہ 201 کے تحت فردِ جرم عائد کر سکتے ہیں۔ ایف آئی آر کا اندراج Code of Criminal Procedure کی دفعہ 154 کے تحت پولیس کا لازمی قانونی فریضہ ہے۔ اس فریضے میں دانستہ تاخیر یا انکار قانونی احکامات کی خلاف ورزی اور غفلتِ مجرمانہ کے مترادف ہے۔ Police Order 2002 کی دفعہ 155(1)(c) کے تحت ایسے پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالتیں اس ضمن میں متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (DPO) کو ہدایت جاری کر سکتی ہیں کہ وہ ذمہ دار افسر کے خلاف قواعد کے مطابق محکمانہ کارروائی کا آغاز کرے۔