У нас вы можете посмотреть бесплатно Maulana Rasheed Ahmad Gangohi|حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی|حضرت گنگوہی |رشید احمد گنگوہی |ALFURQANTV или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Maulana Rasheed Ahmad Gangohi |Mualana Rashid Ahmad Gangohi|مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیAl Furqan official Tv حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ گنگوہ ضلع سہارنپور کا قدیم قصبہ ہے، عرصہ قدیم سے بڑے بڑے اولیاء اللہ کا مولد اور مدفن ہے، سہارنپور سے تقریباً سولہ میل اور تھانہ بھون سے تیرہ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی ولادت باسعادت قصبہ گنگوہ محلہ سرائے متصل خانقاہ حضرت شاہ عبدالقدوس صاحب گنگوہی رحمہ اللہ، مولانا ہدایت احمد صاحب کے گھر میں ۶؍ذی القعدہ ۱۲۴۴ھ بروز شنبہ بوقت چاشت ہوئی، آپ کے والد ماجد کا نام مولانا ہدایت احمد صاحب بن قاضی پیربخش صاحب ہے۔ اور آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم گنگوہ کے ایک میاں جی صاحب سے حاصل کی پھر عربی و فارسی مولانا عنایت صاحب اور مولانا محمدتقی صاحب سے پڑھی بعد ازاں ۱۲۶۱ھ میں تحصیل علم کے لئے دہلی کا سفر کیا اور چند دنوں قاضی احمدالدین پنجابی سے کچھ کتابیں پڑھیں اور پھر اسی سال حضرت مولانا مملوک علی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہاں دلجمعی سے پڑھنا شروع کیا، حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ ۱۲۶۰ھ میں دہلی پہنچ چکے تھے اور شروع سے مولانا مملوک علی صاحب کی خدمت میں رہتے تھے تھوڑے دنوں بعد علم و فضل کے یہ دونوں شمس و قمر ایک ساتھ ہوگئے اور تا حیات ساتھ رہے، یہ دونوں شمس و قمر مولانا مملوک علی صاحب کی خدمت میں عرصہ تک پڑھتے رہے، معقولات کی مشکل اور انچی کتابیں صدرا، شمس بازغہ، میر زاہد قاضی و غیرہ ایسے پڑھا کرتے تھے۔ ذکاوت و ذہانت میں یہ دونوں حضرات دہلی میں مشہور ہوگئے تھے اسی وجہ سے اساتذہ خصوصاً مولانا مملوک علی صاحب کو ان دونوں سے بہت زیادہ محبت تھی۔ اگر طبیعت ناساز ہوتی تو عیادت فرماتے اور قیام گاہ پر جا کر ان حضرات کو پڑھاتے تھے، علم حدیث آپ نے ہندوستان میں خاندان ولی اللہی کے آخری چشم و چراغ حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رحمہ اللہ سے حاصل کیا ہے شاہ صاحب علم ظاہر و باطن میں شہرہ آفاق ہیں۔ الحاصل حضرت گنگوہی رحمہ اللہ ۲۱سال کی عمر میں تمام علوم و فنون سے مکمل ہوگئے تو بمقتضائے طبیعت آپ کو شوق ہوا کہ کوئی طالب علم مل جاتا تو اس کو پڑھانا ہی شروع کردیتے مولانا گنگوہی رحمہ اللہ نے بغرض مناظرہ ایک بارات کے ساتھ تھانہ بھون کا سفر اختیار کیا اور بارات کے متعلق امور نکاح و غیرہ سے فارغ ہوکر حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بعد استفتار آنے کا منشاء ظاہر کیا تو حضرت حاجی صاحب قدس سرہ نے یہ کہہ کر وہ ہمارے بڑے ہیں۔ مناظرے سے منع فرمایا۔ چنانچہ آپ نے حضرت حاجی صاحب کی بات مان لی اور مناظرے سے باز آئے اور اپنا ارادہ بیعت ظاہر کیا تب حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ نے باصرار و بسفارش حضرت حافظ ضامن شہید بیعت کر لیا۔ بیعت ہونے کے بعد آپ نے بموجب ارشاد حضرت صاحب ذکر و شغل شروع کیا اور بقول خود ’’کہ پھر تو میں مر مٹا‘‘ چنانچہ حضرت حاجی صاحب نے آٹھویں دن فرمایا: ’’میاں رشید احمد جو نعمت حق تعالیٰ نے مجھے دی تھی وہ آپ کو دیدی آئندہ اس کو بڑھانا آپ کا کام ہے‘‘ جب آپ کو بیالیس دن رہتے ہوئے ہوگئے تب آپ نے وطن عزیز رخصت ہونے کی اجازت چاہی، حضرت حاجی صاحب نے گنگوہ کے لئے رخصت کرتے وقت خلافت اور اجازت بیعت ان الفاظ کے ساتھ عنایت فرمائی: ’’اگر تم سے کوئی بیعت کی درخواست کرے تو بیعت کرلینا‘‘ اس خدائی نعمت کو (جس کے لئے وَر وَر کی خاک چھانی جاتی ہے) پا کر جب آپ گنگوہ تشریف لائے تو خانقاہ شاہ عبدالقدوس گنگوہی رحمہ اللہ کو جو تین سو سال سے ویران اور خراب و خستی پڑی تھی مرمت کر کے آباد کیا اور رات دن ذکر و فکر الہی میں مشغول رہتے، راتوں کو رویا کرتے تھے اور جو لحاف آپ اوڑھا کرتے تھے باران اشک سے داغدار ہوگیا تھا. غرض یہ کہ ذکر الہی کی خوشبوؤں نے جب گنگوہ کے کوچہ و بازار اور خانہ و صحرا کو معطر کرنا شروع کیا تو ایک نیک بخت خاتون نے حضرت گنگوہی رحمہ اللہ سے بیعت کی درخواست کی لیکن آپ نے انکار فرمادیا، اتفاق سے چند دنوں بعد حضرت حاجی صاحب تشریف لے گئے اور خاتون موصوفہ نے موقع کو غنیمت جان کر بتوسط حضرت حاجی صاحب پھر درخواست کی بالآخر حضرت حاجی صاحب کی تعمیل حکم میں آپ نے بیعت فرمالیا۔ سلسلہ بیعت میں داخل ہونے والی یہ سب سے پہلی خاتون تھی ۔ آپ اپنے وقت کے فقہ و حدیث کے امام تھے اور تمام علوم کے بحر ذخار تھے لیکن حدیث و فقہ سے آپ کو بہت زیادہ شغف تھا، آپ نے چودہ مرتبہ سے زیادہ ہدایہ کو پڑھایا ہے اور تقریباً صحاح ستہ کی تمام کتابیں آپ نے پڑھائی ہیں۔ غرضیکہ آپ کے عملی و روحانی کمالات کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے صرف اتنا عرض کردینا کافی ہے کہ آپ کے فیض صحبت اور کفش برداری سے شیخ الہند مولانا محمود الحسن حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبدالرحیم رائپوری رحمہ اللہ اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ جیسے حضرات فلک ہند کے نیر اعظم ہوئے ہیں. حضرت حاجی صاحب قدس سرہ کا ایک ملفوظ ہے کہ: ’’اگر حق تعالی مجھ سے دریافت کرے گا کہ امداد اللہ کیا لے کر آیا تو میں مولوی رشید احمد صاحب اور مولوی محمد قاسم صاحب کو پیش کردوں گا کہ یہ لے کر حاضر ہوا ہوں‘‘ (تذکرۃ الرشید) آپ نے زندگی میں تین دفعہ حج کی سعادت حاصل کی اور تمام عمر دین کی خدمت میں مصروف رہے۔ فتاویٰ رشیدیہ آپ کا علمی شاہکار ہے اس کے علاوہ کئی تصانیف لکھی ہیں اور ہزاروں علماء و مشائخ آپ کے فیض علمی و روحانی سے مستفید ہوئے ہیں۔ بالاخر ۹؍ جمادی الثانی ۱۳۲۳ھ مطابق ۱۱؍اگست ۱۹۰۵ء کو واصل بحق ہوگئے۔ اناللہ و اناالیہ راجعون #MaulanaRasheedAhmadSbGangohi #RashidAhmadGangohi #MuftiTaqiUsmani #AlFurqanOfficialTv #MuftiTasawwurMazahiri