У нас вы можете посмотреть бесплатно Mishkaat_ul_Masabeeh.Kitab ul Aadaab.By Mufti Salmanمشکاۃ ج 2، کتاب الآداب، مفتی محمد سلمان زاہد(63) или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
مشکوة المصابیح جلد دوم (63) ۔۔۔ کتاب الآداب یعنی زندگی گزارنے کے بہترین اِسلامی آداب اور طور طریقے حدیث نمبر 5148 تا 5153 (بمطابق نسخه مکتبة البشریٰ) کتاب الآداب (تریسٹھواں حصہ) بَابُ الَأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ نیکی کا حکم دینےکا بیان الفصل الثانی،حدیث نمبر13 سے باب کے آخر تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احادیث طیبہ کے مضامین: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارشادِ نبوی ہے : میں نے معراج کی رات کچھ آدمیوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کترے جا رہے تھے، میں نے کہا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ آپ کی امت کے خطیب حضرات ہیں، یہ لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر خود کو بھول جاتے تھے۔ آسمان سے روٹی اور گوشت پر مشتمل دسترخوان اتارا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ وہ خیانت نہ کریں اور نہ کل کے لیے ذخیرہ کریں، لیکن انہوں نے خیانت کی، ذخیرہ کیا اور کل کے لیے اٹھا رکھا، جس کی وجہ سے انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ آخری دور میں میری امت کو ان کے بادشاہوں کی طرف سے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اس وقت میں صرف تین طرح کے لوگ نجات پائیں گے: (1)اعلیٰ ترین: دین کا علم حاصل کرکے دل و زبان اور ہاتھ سے جہاد کرنے والا۔ (2)متوسط: دین کا علم حاصل کرکے زبان سے سمجھانے والا۔ (3)ادنیٰ : دین کا علم حاصل کرکے خاموشی اختیار کی ، لیکن حق کو حق جانا اور بُرائی کو بُرائی سمجھا۔ اللہ عزوجل نے جبریل علیہ السلام ؑ کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو اس کے باسیوں سمیت الٹ دو۔ حضرت جبریل علیہ السلام عرض کیا: اے پروردگار! ان میں تو تیرا فلاں بندہ ہے جس نے آنکھ جھپکنے کے برابر تیری نافرمانی نہیں کی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس (شہر) کوپہلے اس پر اور اس کے بعدان پر الٹ دے، کیونکہ اس کا چہرہ میری خاطر کبھی لمحہ بھر کے لیے بھی متغیر نہیں ہوا۔ بے شک اللہ عزوجل روز قیامت بندے سے سوال کرتے ہوئے فرمائے گا: تجھے کیا ہوا تھا کہ جب تو نے برائی دیکھی تو تُو نے اسے کیوں نہیں روکا؟ چنانچہ اس بندہ کو دلیل سکھا دی جائے گی اور وہ عرض کرے گا: رب جی! میں لوگوں سے ڈر گیا اور تجھ سے امید رکھی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! بے شک نیکی اور برائی دو (الگ الگ) مخلوق ہیں، روز قیامت انہیں لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، چنانچہ نیکی تو اپنے ساتھیوں (یعنی نیکوکاروں) کو خوشخبری دے گی اور ان سے خیر کا وعدہ کرے گی، جبکہ برائی کہے گی: دور رہو، دور رہو، لیکن وہ (برائی کرنے والے) اس سے جدا نہیں ہو سکیں گے Mufti Mohammad Salman Zahid Fazil Jamia DarulUloom Karachi ـــــــــــــــــــــ USTAAZ ــــــــــــــــــ JAMIA ANWAR UL ULOOM SHAD BAGH MALIR KARACHI AL-EMAAN INSTITUTE مفتی محمد سلمان زاھد فاضل جامعه دار العلوم کراچی ـــــــــــــــــــــ استاذ ــــــــــــــــــ جامعه انوار العلوم شاد باغ ملیرکراچی و الایمان انسٹیٹیوٹ ـــــــــــــــــــــ امام و خطیب ــــــــــــــــــ جامع مسجد رحمانیه گلشن رفیع ملیر کراچی