У нас вы можете посмотреть бесплатно کتابیں لادے گدھے کی مثال | قرآن کی وہ مثال جو علم کے بغیر عمل کی حقیقت بتا دے или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
قرآنی مثالیں | وہ مثالیں جو زندگی بدل دیں | قرآنِ کریم کی حکمت سے بھری تعلیمات | قرآن کی حیران کن مثالیں | ہر مثال ایک سبق | قرآنی امثال اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بار بار مثالیں دی ہیں تاکہ بڑی سے بڑی حقیقت کو انسان آسانی سے سمجھ سکے۔ قرآنِ کریم میں اللہ نے خود فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ یہ مثالیں محض کہانیاں نہیں بلکہ زندگی بدل دینے والے سبق ہیں جو چودہ سو سال پہلے بھی اتنے ہی سچ تھے جتنے آج ہیں اور قیامت تک سچ رہیں گے۔ پہلی عظیم مثال مکھی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحج میں فرمایا کہ اے لوگو ایک مثال دی جاتی ہے، اسے غور سے سنو۔ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی نہیں بنا سکتے اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو وہ اسے واپس نہیں لے سکتے۔ یہ مثال بت پرستی کی کمزوری کو اس انداز میں بیان کرتی ہے کہ کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔ جو معبود ایک مکھی کا مقابلہ نہ کر سکے وہ کسی کا رب کیسے ہو سکتا ہے؟ دوسری عظیم مثال مکڑی کے گھر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العنکبوت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا سہارا بنایا ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا ہی ہے۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کے سہارے، دولت کا سہارا، رشتوں کا سہارا، اقتدار کا سہارا، یہ سب مکڑی کے جالے سے زیادہ کچھ نہیں۔ جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کا سہارا ڈھونڈے وہ مکڑی کے گھر میں پناہ لینے جیسا کمزور کام کرتا ہے۔ تیسری مثال نور کی ہے جو قرآنِ کریم کی سب سے خوبصورت اور گہری مثالوں میں سے ہے۔ سورۃ النور میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہو، قندیل موتی جیسے ستارے کی طرح چمکتی ہو، وہ چراغ ایک مبارک زیتون کے درخت کے تیل سے روشن ہو۔ یہ مثال اللہ کے نور کو اور اس نور کے انسانی دل میں اترنے کو اس انداز میں بیان کرتی ہے کہ پڑھنے والا خود بھی روشن ہو جاتا ہے۔ چوتھی مثال اچھے کلمے کی ہے۔ سورۃ ابراہیم میں اللہ نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اچھے کلمے کی مثال کیسی بیان کی، اس کی جڑ زمین میں مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہیں۔ یہ مثال ایمان، توحید اور اچھی بات کی ہے جو ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں دل میں گہری ہوں اور جس کے پھل ہمیشہ ملتے رہیں۔ برے کلمے کی مثال اس درخت کی ہے جو زمین سے اکھڑ گیا ہو اور جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ پانچویں مثال دنیا کی ہے جو قرآنِ کریم کی سب سے یاد رہنے والی مثالوں میں سے ہے۔ سورۃ الکہف میں اللہ نے فرمایا کہ دنیاوی زندگی کی مثال اس پانی جیسی ہے جو ہم نے آسمان سے اتارا تو اس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہو گئی، پھر وہ چورا چورا ہو گئی جسے ہوائیں اڑا لے گئیں۔ یہ مثال دنیا کی بے ثباتی کو اس انداز سے بیان کرتی ہے کہ کوئی بھی انسان جو تھوڑا بھی سوچے سمجھے وہ دنیا کے پیچھے دیوانہ نہیں ہوگا۔ چھٹی مثال خرچ کرنے کی ہے جو اسلام کے معاشی فلسفے کو ایک جملے میں بیان کر دیتی ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ یعنی ایک دانے سے سات سو دانے۔ اللہ جسے چاہے اس سے بھی زیادہ دیتا ہے۔ یہ مثال انسان کو کنجوسی سے نکال کر سخاوت کی طرف لے جاتی ہے۔ ساتویں مثال منافق کی ہے جو سورۃ البقرہ میں دو طریقوں سے بیان کی گئی ہے۔ پہلی مثال یہ ہے کہ منافق کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی لیکن جب آگ نے اس کے ارد گرد روشن کیا تو اللہ نے اس کی روشنی لے لی اور وہ اندھیرے میں رہ گیا۔ دوسری مثال یہ ہے کہ منافق کی مثال اس شخص جیسی ہے جو بارش میں پھنسا ہو، اوپر سے تاریکی ہو، گرج ہو، بجلی ہو، وہ بجلی کی چمک میں چلے اور جب اندھیرا ہو جائے تو کھڑا ہو جائے۔ یہ منافقت کی کیفیت کا ایسا نقشہ ہے کہ ہر پڑھنے والا اپنے دل کا جائزہ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آٹھویں مثال جاہل کی ہے جو سورۃ الجمعہ میں بیان ہوئی۔ اللہ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو تورات دی گئی پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے جو کتابیں اٹھائے ہو۔ یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ علم کا اصل مقصد عمل ہے، صرف علم رکھنا کافی نہیں۔ جو شخص علم جانتا ہو لیکن اس پر عمل نہ کرے وہ کتابوں کا بوجھ اٹھانے والے گدھے سے بہتر نہیں۔ قرآنِ کریم کی یہ مثالیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی میں اتارنے کے لیے ہیں۔ جب ہم مکڑی کے گھر کی مثال پڑھیں تو سوچیں کہ ہمارے سہارے کہاں ہیں، جب مکھی کی مثال پڑھیں تو سوچیں کہ ہم کسے پکارتے ہیں، جب دنیا کی مثال پڑھیں تو سوچیں کہ ہم کس چیز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ قرآن ایک زندہ کتاب ہے جو ہر دور میں زندگی بدل دیتی ہے بشرطیکہ ہم اسے سمجھ کر پڑھیں۔ اس ویڈیو کو Like کریں، Channel کو Subscribe کریں اور Bell Icon ضرور دبائیں۔ کمنٹس میں بتائیں کہ آپ کو کون سی مثال سب سے زیادہ پسند آئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔