У нас вы можете посмотреть бесплатно خلاصہ قرآن - پارہ نمبر 17 - پروفیسر عبدالرحمن طاھر حفظہ اللہ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
Khulasa e Quran Para 17 | خلاصہ قرآن پارہ ١٧ سترھویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے حساب کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ اللہ نے دین سمجھنے کا طریقہ بھی بتایا کہ اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھ لینا چاہیے۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا، اگر اس نے کھیل ہی کھیلنا ہوتا تو وہ کسی اور طریقے سے بھی یہ کام کر سکتا تھا۔ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ہر چیز کو پانی سے زندگی دی ہے۔ اللہ انسانوں کو اچھے اور برے حالات سے آزماتا ہے۔ حالات اچھے ہوں تو انسان کو شکر کرنا چاہیے اور حالات برے ہوں تو انسان کو صبر کرنا چاہیے۔ اس سورت میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کو تولنے کے لیے میزانِ عدل قائم کریں گے۔ اس میزان میں ظلم والی کوئی بات نہیں ہوگی اور جو کچھ اس میں ڈالا جائے گا وہ انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہوگی۔ حضرت ابراہیم کی جوانی کا وہ واقعہ بھی ذکر کیا گیا ہے جب انھوں نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔ جنابِ ابراہیم نے کہا کہ تم اور تمھارے باپ کھلی گمراہی میں ہیں۔ لوگوں نے کہا کیا تم واقعی ہمارے پاس حق لے کر آئے ہو یا یونہی مذاق کر رہے ہو؟ تو ابراہیم نے جواب دیا کہ تمھارا رب آسمان اور زمین کا رب ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے حق ہونے کی گواہی دیتا ہوں، اللہ کی قسم جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمھارے بتوں کے خلاف ضرور کارروائی کروں گا۔ چنانچہ جنابِ ابراہیم نے ان کی عدم موجوگی میں بت کدے میں داخل ہو کر بتوں کو توڑ ڈالا۔ جب قوم کے لوگ بت کدے میں داخل ہوئے اور بتوں کو ٹوٹا دیکھا تو کہا جس نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے وہ یقینًا ظالم آدمی ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے۔ آپ نے کہا اس بڑے بت نے یہ کیا ہے۔ اگر یہ بت بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔ لوگوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمھیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمھارے ان معبودوں پر جن کی اللہ کے سوا تم عبادت کرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ سورۃ الانبیاء کے بعد سورہ حج ہے جس کے شروع میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا اور ارشاد فرمایا کہ بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ اس زلزلے کی وجہ سے حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی اور دودھ پلانے والیاں شیر خواروں کو پھینک دیں گی اور لوگ نشے کی حالت میں نظر آئیں گے جب کہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ پھر اللہ تعالی نے بدر کے معرکے کا ذکر کیا کہ جس میں ایک ہی قبیلے کے لوگ آپس میں ٹکرا گئے تھے اور یہ جنگ نسل، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کی نشان دِہی فرمائی کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو واضح گمراہ ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو تذبذب کا شکار ہیں. جب فراخی ہوتی ہے، دنیوی منافع حاصل ہوتے ہیں تو عبادت کرتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی آزمائش آئے تو پیٹھ پھیر جاتے ہیں. اللہ تعالیٰ نے دونوں سے علیحدہ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے. اللہ تعالیٰ نے جنابِ ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی اور ان سے کہا کہ آپ کسی بھی چیز میں میرا شریک نہ ٹھہرائیے اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیے اور آپ لوگوں میں حج کا اعلان کیجیے تاکہ وہ آپ کے پاس پیدل چل کر اور دبلی اونٹنیوں پر سوار ہو کر دور دراز علاقوں سے آئیں اور اپنے لیے دینی اور دنیوی فوائد حاصل کرسکیں۔ اور گنتی کے مخصوص دنوں میں ان چوپایوں کو اللہ کے نام پر ذبح کیجیے جو اللہ نے بطورِ روزی انھیں دیے ہیں۔ پس تم لوگ ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کامل مومنین کی چار صفات کا ذکر بھی فرمایا ہے: جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں، مصائب پر صبر کرتے ہیں، نماز کی پابندی کرتے ہیں، اور نیک مصارف میں خرچ کرتے ہیں. نیز یہ خوبی بھی بیان کی ہے کہ ان لوگوں کو اگر اللہ زمین میں تمکنت عطا فرما دے تو بھی یہ نماز کی پابندی کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہتے ہیں. اللہ تعالیٰ نے قربانی کی قبولیت کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا کہ اللہ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اللہ کو انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بند برجوں میں چھپ جانے والوں تک بھی پہنچ جاتی ہے. اللہ نے ان مظلوم مسلمانوں کو بھی جہاد کی اجازت دی کہ جن کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے عقیدہ توحید کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔ اس سورت میں اللہ نے ایک مثال کے ذریعے شرک کی تردید کی کہ جن معبودانِ باطل کو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ان کی ناتوانی و بے بسی کی کیفیت یہ ہے کہ وہ سارے جمع ہو کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے، اور مکھی بنانا تو دور کی بات ہے، اگر مکھی جیسی بے حیثیت مخلوق ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اس کو واپس بھی نہیں لے سکتے۔ یہ مانگنے والے بھی کمزور ہیں اور جن سے مانگتے ہیں وہ بھی کمزور ہیں. درحقیقت انھوں نے اللہ کی قدر نہیں جانی جیسی کہ جاننا چاہیے تھی. اللہ اگلا پچھلا سب جانتا ہے. اے ایمان والو اگر فلاح چاہتے ہو تو اللہ کی عبادت کرو اور اسی کو رکوع و سجدہ کرو. اور اللہ کی راہ میں ویسے جہد و جہاد کرو جیسا کہ اس کا حق ہے کیونکہ اللہ نے تمھیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چن لیا ہے، اور نماز و زکوٰة کا اہتمام کرتے ہوئے خدائے حامی و ناصر کے ساتھ کو مضبوط پکڑے رہو