У нас вы можете посмотреть бесплатно Hazrat Sabat Bin Qais RA | حضرت ثابت بن قیسؓ | Sahabah | Islam | Arab | Quraan | Umar Barlas или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
بنو تمیم عرب کا مشہور اور بڑا قبیلہ ہے۔ ایک مرتبہ ان کا وفد مدینہ منورہ آتا ہے۔ یہ بدو لوگ تھے، انہیں اپنے شاعروں اور خطیبوں پر بڑا فخر تھا۔ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو انہوں نے آپکے رہائشی کمروں کے قریب جا کر زرو زور سے کہا: محمد ذرا اپنے گھر سے باہر آئیے۔ اللہ کے رسولکو ان کا اس طرح نام لے کر پکارنا اچھا نہ لگا۔ صحابہ کرام سے میں کسی کی مجال نہ تھی کہ اس طرح بات کریں یا آپ کو نام لے کر پکاریں، اس لیے کہ آپ کو آپ کے نام سے پکارنا تو بے ادبی ہے۔ کیا ہم اپنے والد کو اس کے نام سے پکار سکتے ہیں۔ اس لیے یا محمد کہہ کر کبھی نہیں پکارنا چاہیے۔ اللہ کے رسولاپنے گھر سے باہر تشریف لائے تو ملاقات کے لیے آنے والوں کا سردار بولا ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہم اپنے قبیلے کے لیے فخر ومباہات کا اظہار کر سکیں۔ اس لیے آپ ہمارے شاعر اور خطیب کو اجازت دیں کہ وہ اپنے اشعار اور خطابت کے جوہر دکھاکردوسروں پر اپنی برتری ثابت کر سکیں۔ اس زمانے میں عربوں کو اپنی زبان دانی پر بڑا فخر تھا۔ شاعر اپنے اشعار سے لوگوں میں آگ لگا دیتے۔ وہ اشعار کیا پڑھتے لوگ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے۔ اسی طرح خطیب بھی بڑا کمال دکھاتے، وہ تقریر کرتے، ایسی خوبصورت اور بہترین تقریر، اس میں الفاظ کا انتخاب اس قدر خوبصورت ہوتا کہ لوگ حیرت کے سمندر میں گم ہو جاتے اور ان پرخطیب کے کلام کا سحر طاری ہو جاتا۔ اللہ کے رسول کی ایک حدیث ہے:بعض خطابات اور بیانات جادو اثر اور مسحور کن ہوتے ہیں۔ اللہ کے رسولسے اجازت پا کر بنو تمیم کا شاعر اشعار پیش کرتا ہے۔ پھر ان کا خطیب عطارد بن حاجب کھڑا ہوکر بڑی زبردست تقریر کرتا ہے۔ اپنے قبیلے کی خوبیاں ،اپنے مال و دولت اور کثرت تعداد کا ذکر کرتا ہے۔ پھر لوگوں سے پوچھتا ہے: بتاؤ! زمانے بھر میں ہمارے جیسا کوئی اور شخص ہے؟ وہ اپنے قبیلے کے فخر بیان کر کے کہتا ہے کہ آئے کوئی ہمارا مقابلہ کرے۔ اللہ کے رسولنے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابتؓ کو اشارہ کیا اور انہوں نے بنو تمیم کے شاعر کا بڑا خوبصورت جواب دیا۔ پھر آپنے اپنے صحابی ثابت بن قیسؓ کو اشارہ کیا کہ اب تم بنو تمیم کے خطیب کے جواب میں اپنا خطاب پیش کرو۔ سیدنا ثابت بن قیسؓ انصار کے مشہور قبیلے بنو خزرج کی ایک شاخ بنو نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیتے ہیں۔وہ اتنے زبردست خطیب تھے کہ انہوں نے چند منٹوں میں عقیدہ توحید، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اللہ کے رسولکے مقام ومرتبہ اور آپ کے اخلاق وکردار کا بہت خوبصورت تذکرہ کیا۔ انہوں نے آپ کی شان بیان کرتے ہوئے کہا ہمارے آقا نے لوگوں کو ایمان کی دعوت دی۔ مکہ مکرمہ کے مسلمان آپ پر ایمان لائے، ان میں آپ کے رشتہ دار بھی تھے۔ یہ لوگ حسب و نسب کے لحاظ سے بہترین لوگ تھے،یہ لوگوں میں سے خوبصورت ترین چہروں والے اورتمام لوگوں سے بڑھ کرحسین ترین اعمال والے ہیں۔ پھرحضرت ثابت ؓنے انصار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا :ہم لوگ اللہ کے مدد گار اور اس کے رسول کے وزراء ہیں۔ ان کا خطبہ کیا تھا، خوبصورت اور گہرے معانی سے بھرپور موتیوں کی ایک لڑی تھی۔ ان کا خطاب بنو تمیم کے خطیب کا نہایت خوبصورت جواب تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی اونچی آواز سے نوازا تھا۔ وہ بڑی بھاری اور گرج دار آواز کے مالک تھے۔سامعین ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کے جادو میں کھو جاتے۔ قدرت نے ان میں فصاحت و بلاغت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ یہ شاعر بھی تھے، پڑھنا لکھنا بھی جانتے تھے اور اعلیٰ درجے کی عقل سلیم کے مالک تھے۔ آپ نے دیکھا کہ جب بنو تمیم کے خطیب نے اپنی خطابت کے جوہر دکھائے تو اس کا جواب دینے کے لیے اللہ کے رسول نے نے سیدنا ثابت بن قیسؓ ہی کاانتخاب فرمایا۔ سیدنا ثابت بن قیس ؓمدینہ طیبہ کے رہنے والے تھے۔ بڑے بہادر اور شجاع تھے۔مدینہ منورہ کا پرانا نام یثرب تھا۔ یہاں دو بڑے قبیلے اوس وخزرج آباد تھے۔ دونوں قبائل کے بڑے آپس میں چچا زاد بھائی تھے اور یمن سے ہجرت کر کے یثرب میں آباد ہو گئے تھے۔ دونوں قبائل کے درمیان گاہے بگاہے چھوٹی بڑی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ یثرب کی دولت پر اصل قبضہ یہودیوں نے جمایا ہواتھا۔ وہ ان دونوں قبائل کو سود پر رقم دیتے اور دونوں کو آپس میں لڑاتے رہتے۔ اسلحہ کی تیاری اور فروخت کا کاروبار بھی یہودیوں نے سنبھال رکھا تھا۔یہ دونوں قبائل یہودیوں سے اسلحہ خریدتے اور آپس کی لڑائیوں میں استعمال کرتے۔ اوس اور خزرج کے درمیان ہجرت سے5 سال پہلے بعاث کے مقام پربہت بڑی لڑائی ہوئی تھی جس میں ثابت بن قیس نے بھی شرکت کی تھی۔ بعاث کا مقام آج کل مسجد قبا کے قرب و جوار میں بنتا ہے۔ ثابت چونکہ بلند پایہ شاعر اور زبردست خطیب تھے،اس لیے انہوں نے اپنی خطابت اور شاعری سے اپنی قوم کو خوب بھڑکایااور انہیں لڑائی پر آمادہ کیا۔ اس لڑائی میں دونوں طرف سے کتنے ہی لوگ مارے گئے۔ خزرج قوم ہر چند کہ تعداد میں بڑی تھی مگر اس جنگ میں میدان قبیلہ اوس کے ہاتھ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے بعد میں جلد ہی اہل یثرب پر بہت بڑا انعام فرمایا جو امام کائنات سید ولد آدم محمدکی تشریف آوری کی صورت میں ہوا۔جب آپ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے آئے تو یہ دونوں قومیں آپس میں شیر و شکر ہو گئیں۔ تمام پرانے اختلافات ختم ہو گئے اور یہ آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ Sources: Book: Zindigyan Sahabah ki Author: Abdul Rehman Pasha Translator: Abu Javed Iqbal Ahmad Qasmi #islam #sahaba #Sabitbinqais