У нас вы можете посмотреть бесплатно خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےAllama Iqbal или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےAllama Iqbal تشریح: یہ شعر خودی کے فلسفے کی ایک خوبصورت اور پُراثر ترجمانی ہے، جسے علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور فکر کا مرکزی نقطہ بنایا۔ خودی کا مطلب ہے انسان کے اندر کا وہ شعور، قوتِ ارادی، خود اعتمادی اور اپنی اصل پہچان کا ادراک، جو انسان کو عظمت عطا کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خودی، یعنی اپنی شخصیت، کردار، ارادے اور اخلاق کو اتنا بلند (اعلیٰ و ارفع) بنا لے کہ وہ خود اپنی تقدیر لکھنے کے قابل ہو جائے۔ جب انسان اتنا مضبوط اور باوقار ہو جائے، تو تقدیر بھی اُس کی مرضی کے تابع ہو جائے۔ یعنی خُدا بھی اُس کے عزم و ارادے کی قدر کرے اور تقدیر طے کرنے سے پہلے اُس سے پوچھے:"بتا، تیری رضا کیا ہے؟" فلسفیانہ پہلو: اقبال کا پیغام یہ ہے کہ انسان صرف قسمت پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اپنی کوشش، علم، عمل، اور ایمان سے اپنی تقدیر خود بنائے۔ یہ شعر خود انحصاری، بلند ہمتی، خود اعتمادی، اور عمل پر یقین کا درس دیتا ہے۔ مثال: فرض کرو ایک طالبعلم ہے جسے امتحان میں کامیاب ہونا ہے۔ ایک عام طالبعلم کہتا ہے:"جو نصیب میں ہوگا، وہی ہوگا۔ اگر پاس ہونا نصیب میں ہے تو ہو جاؤں گا۔" لیکن اقبال کا طالبعلم کہتا ہے:"میں اتنی محنت کروں گا، اتنی تیاری کروں گا، اپنے اندر اتنا اعتماد پیدا کروں گا کہ کامیابی میرے قدم چومے گی۔" اب جب ایسا طالبعلم امتحان دیتا ہے، تو کامیابی نصیب یا قسمت کا نتیجہ نہیں بلکہ اُس کی خودی، محنت اور ارادے کا ثمر ہوتی ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں اقبال کہتے ہیں کہ وہ اتنا عظیم بن جاتا ہے کہ خدا بھی اُس کی رضا پوچھتا ہے – یعنی وہ اپنی تقدیر خود لکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔