У нас вы можете посмотреть бесплатно ایمانداری تب قیمتی بنتی ہے جب اس کے ساتھ محنت بھی ہو۔ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
میری ذاتی سوچ اور تجربے کے مطابق، بسوں میں پھیری لگا کر ابلے ہوئے آلو اور چنے بیچنے والے اس لڑکے پر کم از کم پندرہ دن تحقیق اور پھر نگرانی ضروری تھی۔ یہ تو واضح تھا کہ وہ حقدار ہے، مگر سوال یہ تھا کہ کیا وہ محنتی بھی ہے، یا پھر دوسرے بہت سے حقدار مگر نالائق ایمانداروں کی طرح؟ یہ ایمانداروں کی ایک الگ کیٹیگری ہے جو میں نے اپنی تحقیق سے دریافت کی ہے۔ اگر آپ لائق ایماندار ہیں تو آپ دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ اور اگر آپ نالائق ایماندار ہیں تو آپ اپنی نااہلی کی وجہ سے ہر ملنے والے موقع کو برباد کرتے ہیں—اپنا بھی نقصان کرتے ہیں اور اس کا بھی جو آپ کے لیے وسائل پیدا کرتا ہے—اور عمر بھر “کاش” میں مبتلا رہتے ہیں۔ محض ایماندار ہونا آپ، آپ کے خاندان اور آپ کے مستقبل کے لیے بے فائدہ ہے اگر اس کے ساتھ سمجھداری اور محنت نہ ہو۔ اس لڑکے نے پانچ دن مزدوری کرنے کے بعد صرف آدھے دن کی چھٹی مانگی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر اجازت نہ ہو تو وہ یہ چھٹی بھی نہیں کرے گا۔ میں نے فیصل کے ذریعے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک فوتگی پر قُل میں جانا چاہتا ہے۔ میں نے کہا: “جانے دو، اور پورے دن کی دہاڑی دے دو۔” دوپہر کو جب وہ واپس آیا تو پہلا تعمیر ہونے والا گھر مکمل ہو چکا تھا۔ فیصل اسے اس کے گھر لے گیا—جہاں ابھی اس کا خیمہ لگا ہوا تھا—اور بغیر کچھ بتائے کمرے کی پیمائش شروع کر دی۔ سیلاب میں اس کا کچا کمرہ گر چکا تھا، اور وہ تین ماہ سے اپنے تین سالہ بیٹے اور حاملہ بیوی کے ساتھ ٹینٹ میں رہ رہا تھا۔ جب اسے اس سرپرائز کا اندازہ ہوا تو وہ رو پڑا۔ جمعرات کو دوپہر کے وقت اس کے کمرے کی بنیاد شروع کی گئی۔ جمعہ کو مستریوں کو چھٹی دی گئی، کیونکہ مجھے خود بھی فیصل کے ساتھ تحقیق کے لیے جانا تھا۔ یہ لڑکا اپنی بیوی کے علاج کے لیے اپنے دس من گندم میں سے بچی ہوئی اڑھائی من بیچ چکا تھا، اور تقریباً چار من گندم سیلاب میں خراب ہو گئی تھی کیونکہ وہ اسے اونچی جگہ محفوظ نہ رکھ سکا۔ اس نے اپنے کمرے کی بنیاد کی پہلی کھدائی خود شروع کی۔ فیصل کے مطابق اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور اس نے شکرانے کے دو نفل بھی ادا کیے۔ اس کا کمرہ ہم موجودہ لیول سے چار فٹ اونچا بنا رہے ہیں، کیونکہ یہاں بڑے سیلاب میں تین سے چار فٹ تک پانی آ جاتا ہے۔ اس کے پاس بنیادوں کی اینٹوں کے سوا کچھ نہ تھا، اور چھت کے نام پر چند ٹوٹے ہوئے بانس تھے۔ پہلے اس کا کچا کمرہ دس بائی دس فٹ کا تھا، جس کی صرف بنیادیں پکی تھیں۔ میں نے اس سے وعدہ لیا کہ اگر وہ سگریٹ نہیں پیے گا تو میں کمرہ بنا کر دوں گا۔ چار دن ہو چکے ہیں اور اس نے سگریٹ نہیں پی۔ وہ ہمت والا اور صبر والا لڑکا ہے۔ اسے اس کی محنت اور ایمانداری کا اجر ضرور ملے گا، ان شاء اللہ۔ اسے مناسب کام بھی دلوایا جائے گا—اور بہت جلد اس کی پسند کے مطابق۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اسے وسائل مل جائیں تو یہ لڑکا جس کام کو بھی سمجھے گا، وہ کر گزرے گا—اور کامیاب بھی ہوگا۔ اس کا چھوٹا بھائی بھی چنے بیچتا ہے، مگر اس کے شعور اور سمجھ کی سطح ایسی ہے کہ وہ نہ ترقی کرنا چاہتا ہے اور نہ کر سکتا ہے۔ بہت سمجھایا، مگر وہ نالائق ہے۔ وہ بچوں کی پیدائش تو کر سکتا ہے، مگر زندگی کی تعمیر اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ آپ سب دوستوں سے گزارش ہے کہ اس لڑکے کے لیے دعا کریں۔ رب اسے صحت اور لمبی، باعزت زندگی عطا فرمائے۔ اس پر مکمل کیس اسٹڈی میں کام مکمل ہونے کے بعد تفصیل سے لکھوں گا۔ تحقیق کے دوران بہت دلچسپ پہلو سامنے آئے ہیں۔ سب سے خاص بات جو میں نے نوٹ کی—اس کی آنکھوں میں شرم ہے۔ آپ اس کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھائیں تو یہ آخری آدھی روٹی دوسرے کے لیے چھوڑ کر اٹھ جاتا ہے، رب کا شکر ادا کر کے۔ سفر اور کھانا انسان کی حقیقت عیاں کر دیتے ہیں—فطرت ننگی ہو جاتی ہے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے: “انسان کو اس کے بڑے کاموں سے نہیں، بلکہ اس کے چھوٹے اور بظاہر غیر اہم کاموں سے پہچانو۔” بھوک اور بنیادی ضروریات انسان کو بے نقاب کر دیتی ہیں—اور اس کی اصل حیثیت صاف لکھ دی جاتی ہے۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ یہ کام کا بندہ ہے— بلکہ بہت ہی کام کا بندہ۔ #saqiballyana #floodinpakistan