У нас вы можете посмотреть бесплатно دولت اور شعور مل جائیں تو انسان خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
انسانی زندگی حادثات کا مجموعہ ہے۔ ہم نے اسی مجموعے میں سے اپنے وسائل پیدا کر کے زندگی کو الائن کرنا، سیٹل کرنا اور سٹیبل کرنا ہے۔ زندگی کی ابتدا سے آخری سانس تک سَسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا عمل جاری رہتا ہے، لیکن اس پروسیس کے نتائج فوری طور پر حاصل ہونا ممکن نہیں ہوتے۔ یاد رکھیں، ایکسیپشن کو ایکسیپشن اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ عام معاشرے میں پیدا تو ہوتا ہے، مگر اس معاشرے کا معمولی حصہ نہیں بنتا۔ 24 کروڑ کے معاشرے میں اگر 5 لوگ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہو جائیں، یا 18 سال کی عمر میں کروڑ پتی بن جائیں، تو یہ یا تو رب کی عطا ہوتی ہے یا درست وقت پر درست جگہ درست فیصلہ—اور اگر ایسا موقع سب کو مل بھی جائے تو تذبذب کی وجہ سے منزل پانا ممکن نہیں رہتا۔ فیصلہ کرنے کے بعد اس فیصلے کو عملی طور پر اپنی زندگی میں نافذ کرنا، خود فیصلہ کرنے سے کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ کامیابی کے لیے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، اپنی فطرت کے خلاف جانا پڑتا ہے، اپنے اصولوں کا غلام بن کر جینا پڑتا ہے، اور وقت کو معاشرتی اصولوں کے مطابق استعمال کرنا پڑتا ہے۔ جہاں جانا پسند نہ ہو، وہاں بھی مسکرا کر لوگوں کو گلے لگانا پڑتا ہے۔ کامیابی کے سفر میں محنت کا صلہ کم ملے تو لڑائی کے بجائے ایڈجسٹمنٹ کرنی پڑتی ہے، اور سامنے والے کو غیر محسوس انداز میں اپنا ہونے کا احساس دلانا پڑتا ہے۔ اگر سامنے والا سمجھ نہ پائے، تو جگہ اس طرح بدلنی پڑتی ہے کہ تعلقات خراب نہ ہوں۔ بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جو دولت اور وسائل کو اس قدر اہم سمجھتے ہیں کہ باقی تمام انسان ان کی نظر میں بے معنی ہو جاتے ہیں۔ انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ لوگ انہیں صرف دولت اور طاقت کی وجہ سے سلام کرتے ہیں۔ ایسے افراد دو اقسام کے ہوتے ہیں: ایک وہ جن کی شخصیت کسی وجہ سے ادھوری رہ گئی ہو اور وہ ضد، انا اور نفرت میں مبتلا ہوں۔ ان کے لیے حلال و حرام بے معنی ہوتا ہے—بس دولت اور طاقت کا حصول ہر صورت میں مقصد ہوتا ہے۔ دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو اسٹیٹ آف ڈینائل میں مبتلا ہوتی ہے، جو یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ سب کچھ ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے، اور ان کے بغیر سب بھوکے مر جائیں گے۔ ایسے افراد کا انجام اکثر بہت برا ہوتا ہے۔ جب ان کی شخصیت کی دیواریں گرتی ہیں تو وہ ایک گرداب بن کر رہ جاتے ہیں، کیونکہ وہ خود کو اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے خدا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ اصل رب—خالقِ کُل—کسی کو اس حد تک کھڑا رہنے نہیں دیتا۔ جو اس حد کو پار کرے، وہ ہر صورت غرق ہوتا ہے۔ وسائل، طاقت اور شعور کی موجودگی میں یہ دعا کیا کریں کہ رب آپ سے امتحان نہ لے، کیونکہ شعور والا امتحان جاہل کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اور ہم پھر بھی ناشکرے ہیں—ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے پاس کیا ہے، بس یہی گنتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا نہیں ہے۔ شکر ادا کرنا سیکھیں۔ #saqiballyana #floodinpakistan