У нас вы можете посмотреть бесплатно پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے سبھّے گلاں کھوٹیاں۔ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
معاشرے کی جانب سے چھوٹے قد کی وجہ سے لگاتار ملنے والی تکلیف کے باوجود، میں نے اس خاندان کے چہروں پر معاشی تکلیف تو دیکھی ہے، مگر سماجی تکلیف وہ اب بھوک کی وجہ سے بھلا چکے ہیں۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ بھوک وہ عذاب ہے جو باقی تمام تکالیف کو کھا جاتی ہے۔ اس کے سامنے باقی سب دکھ درد ہیچ ہو جاتے ہیں۔ پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے سبھّے گلاں کھوٹیاں۔ جب جہیز کا سامان دیا گیا تو اماں گھر پر نہیں تھیں۔ ہم نے سامان کمرے میں رکھ کر تالا لگا دیا۔ تالا ساتھ والے گھر سے ملا—ان کے اپنے گھر میں تالا تھا ہی نہیں۔ ہوتا بھی کیوں؟ آخر کس چیز پر ڈکیتی پڑ سکتی تھی؟ جن کا بجلی کا بل گاؤں کا ایک دودھ والا لڑکا ادا کرتا ہے کہ چلو، میری طرف سے یہ نیکی ہو جائے۔ اپنے شہر کے دودھ والوں کو دیکھیں جو دودھ میں پانی ملاتے ہیں، اور ہمارے علاقے کے دودھ والے کو دیکھیں جو نیکی بھی کرتا ہے۔ اس کے بارے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ چند مخصوص گھروں کے علاوہ دودھ لیتا ہی نہیں—جن کا دودھ ایک نمبر نہ ہو۔ اماں کو بتایا کہ یا تو رضائیاں دیں گے یا کمبل سیٹ، مگر آپ کو دونوں دے رہے ہیں—وجہ آپ خود بہتر سمجھ سکتی ہیں۔ دو رضائیاں، دو بستر اور ایک کمبل سیٹ۔ اماں کی دی ہوئی دعائیں آپ خود دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ غربت کی انتہا دیکھیں: 11 دسمبر کو اس عورت کے پاؤں میں جوتا تک نہیں تھا۔ پوچھا تو اماں بولیں، “پتر، پیسے نہیں تھے اس لیے لیے ہی نہیں۔” 350 روپے کی ربڑ کی جوتی—اور اتنے پیسے بھی اس عورت کے پاس نہیں تھے۔ غور کیا تو پورے گھر میں کسی کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے—دونوں بیٹیاں، بیٹا اور دونوں چھوٹے بچے۔ سب کے لیے جوتیاں پہنچا دی گئی ہیں۔ (باقی متن میں بیان کی گئی سماجی ناانصافیاں، گھریلو تشدد، نسل در نسل چلتی محرومی، اور بھوک کی ہولناکی جوں کی توں برقرار ہے۔) آخر میں یہ سمجھ آتی ہے کہ ہم چند گھنٹے دیر سے کھانا ملنے کو بھوک سمجھ لیتے ہیں، جبکہ بھوک نسلوں کو کھا جاتی ہے—جسم، قد اور شکلیں بدل دیتی ہے۔ یہ نسلوں میں سفر کرتی ہے اور ڈی این اے تک میں بگاڑ پیدا کر دیتی ہے۔ #floodinpakistan #saqiballyana