У нас вы можете посмотреть бесплатно عورت کے بغیر گھر عجیب سا ہوتا ہے، چاہے گھر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
اس کارخانۂ قدرت میں عورت کا کردار اس دنیا میں ایسا ہے کہ اس کی پیدائش پر کہیں کوئی روتا ہے تو کہیں کوئی مٹھائی بانٹتا ہے۔ عورت کے بغیر گھر عجیب سا ہوتا ہے، چاہے گھر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اگر اس میں بیوی نہ ہو، بیٹی نہ ہو، ماں نہ ہو، بہن نہ ہو— تو وہ گھر، گھر نہیں رہتا۔ عورت اپنی موجودگی سے گھر کو سنوار دیتی ہے۔ اس کی موجودگی کسی نہ کسی صورت میں ہر گھر کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ جہاں عورت کسی صورت میں موجود نہ ہو، وہاں رونق اور خوشیاں اس گھر اور اس خاندان سے دور ہو جاتی ہیں۔ بیٹی کی پیدائش پر جب باپ اسے بانہوں میں لیتا ہے تو اٹھاتے ہی اسے لگتا ہے کہ آج وہ ایک شہزادی کا باپ بن گیا ہے۔ ایک ایسی شہزادی جو اس سے لڑنے، بولنے اور اپنی مرضی کرنے کا پورا حق رکھتی ہے۔ گھر میں کھانا اس کی پسند کا بنتا ہے، بھائیوں کے کپڑے پانچ ہزار کے ہوں گے، اور اسی فنکشن میں اس شہزادی کا سوٹ پچیس ہزار کا ہوگا، اور بھائیوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی کہ باپ کے سامنے یہ سوال کریں کہ اتنا فرق کیوں ہے۔ کیونکہ شہزادی، آخر شہزادی ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ عورت کے نہ ہونے سے ایک شخص کی زندگی میں کیا فرق آتا ہے—اس کی مثال وہ شخص ہے جس کی زندگی اپنی بیوی کی ڈوب کر وفات کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات پر غور کیجیے: اگر شوہر فوت ہو جائے تو عورت بچوں کو پال لیتی ہے، ان کی تربیت اور بہتر کرتی ہے، انہیں مرغی کی طرح اپنے پروں میں چھپا کر معاشرے میں کسی مقام تک پہنچا دیتی ہے۔ اور کچھ برسوں بعد آپ ایک باوقار عورت کو خاندانی تقریبات میں اپنی کامیاب اولاد کے ساتھ بیٹھا دیکھتے ہیں۔ اس کے بیٹے اور بیٹیاں اس کے اردگرد ایسے گھوم رہے ہوتے ہیں جیسے پیر کے گرد مرید۔ لیکن اگر ماں فوت ہو جائے تو آپ اس خاندان کو اجڑتے دیکھیں گے۔ مرد ڈپریشن میں چلا جاتا ہے، یا انتہائی سخت گیر ہو جاتا ہے، یا اولاد سے غافل ہو جاتا ہے۔ اسے جسمانی عوارض لاحق ہو جاتے ہیں، اور اس کی اولاد ایسے پلتی ہے جیسے کسی ٹوٹے ہوئے گھر کے بچے۔ استثنا ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، لیکن چند استثنائی مثالیں پورے معاشرے کا چہرہ نہیں ہوتیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کل وہاں سے نکلتے ہوئے ہی مستری کو کہہ دیا تھا کہ اس کا کمرہ صبح مزدور لگا کر ٹھیک کروا دینا، کیونکہ سردی کی وجہ سے کوئی سانپ وغیرہ کہیں بھی چھپ سکتا ہے۔ آج کمرہ ٹھیک کرتے ہوئے بھی یہ تاکید کی گئی کہ چیزیں اس طرح منظم کر کے رکھی جائیں کہ کسی چیز کے چھپنے کی جگہ نہ بنے۔ آج دوپہر ایک بجے تک کمرہ مکمل طور پر کلیئر تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ صبح جس شخص کے بارے میں بتایا تھا، آج اس کے معاملے میں جو کچھ کیا گیا وہ ویڈیو میں موجود ہے۔ آپ صرف اس کے چہرے پر نئے بستر پر بیٹھنے سے پہلے کی جھجھک اور بیٹھنے کے بعد آنے والی خوشی کو محسوس کریں۔ پھر اس کے لہجے میں آج موجود خود اعتمادی کو سنیں۔ کل وہ کہہ رہا تھا: جب پاس کچھ نہیں، روٹی کھانے کو نہیں، وسائل موجود نہیں، تو نئی آنے والی بیوی کو کیا کھلاؤں گا؟ کیسے رکھوں گا؟ کچھ مانگے گی تو کیا دوں گا؟ روزی روٹی انسان کا اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور اپنی زندگی سے بہت کچھ نکال دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے انسان کا اصل محور محبت، رشتے اور تعلق نہیں، بلکہ وسائل ہیں۔ آپ کی خواہشات کا دارومدار بھی اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کے پاس وسائل موجود ہیں یا نہیں۔ یہ معاشرہ اخلاص اور اعتبار سے اس قدر خالی ہو چکا ہے کہ اب اس بندے جیسے معصوم لوگ بھی وعدوں کے بجائے کام ہو جانے پر اپنے رویے بدلتے ہیں، ہنستے ہیں، اور خوشی کی طرف تب ہی توجہ دیتے ہیں جب وسائل ہاتھ میں ہوں۔ بھوک ایسی بلا ہے جو انسان کو آسانی سے شرک تک لے جاتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ڈھڈ نہ پیان روٹیاں تے سبھے گلاں کھوٹیاں۔ (اگر پیٹ میں روٹی نہ ہو تو کوئی بات بھی سمجھ نہیں آتی) ۔۔۔۔۔۔۔ رب اس بندے کو زندگی میں سکون اور عزت عطا فرمائے۔ ہم جہاں تک کام آ سکتے ہیں، آ رہے ہیں۔ باقی اصل ضروریات تو رب ہی پورا کر سکتا ہے۔ #saqiballyana #floodinpakistan