У нас вы можете посмотреть бесплатно لوگ بیٹی کی پیدائش پر نہیں، اس کے نصیب کا سوچ کر روتے ہیں۔ или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
لوگ بیٹی کی پیدائش پر نہیں، اس کے نصیب کا سوچ کر روتے ہیں۔ بیٹی کس کو پیاری نہیں ہوتی؟ یہ تو شہزادیاں ہوتی ہیں۔ مگر کیسا انسان اس کے مقدر میں لکھا ہے—یہ درد پہلے دن سے ماں باپ کو اندر سے کھانے لگتا ہے۔ پرسوں، کمرہ مکمل ہونے کے بعد جب چنے بیچنے والے کو اطمینان ہو گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے، تو اس نے مونگ پھلی دیتے ہوئے کہا: “مہر جی، میری بیوہ چاچی کے گھر بھی چکر لگا لیں۔ اس کی بیٹی کی چند دن میں شادی ہے، اور سر چھپانے کی جگہ کے سوا کچھ نہیں۔” کل میں اس بیوہ کے گھر پہنچا۔ ایک طرف امام بارگاہ تھی اور سامنے پرانا ہندو مندر—گاؤں کی آخری نکڑ۔ امام بارگاہ سے آگے قبرستان۔ پتا چلا کہ میاں پانچ ماہ پہلے فوت ہو گیا ہے۔ تب سے وہ خاتون ذہنی مسائل میں گھری ہوئی ہے—کبھی بچوں سے پوچھتی ہے: “تم کون ہو؟ میرا گھر کہاں ہے؟” اور کبھی بالکل نارمل ہو جاتی ہے۔ ذات کے کمہار ہیں۔ میاں بیوی مٹی کے برتن بنا کر بیچتے تھے۔ سوتیلے بیٹے مدد کے قابل نہیں، مگر برے بھی نہیں—لڑتے نہیں، احترام سے پیش آتے ہیں۔ ساتھ والے گھر کی خاتون، جو سوتیلے بیٹے کی بیوی ہے، خود بھی مشکل میں ہے؛ شوہر دل کا مریض، اور وہ خود گنے کی کٹائی پر جاتی ہے۔ کٹائی کے بعد بچ جانے والے پتے اکثر زمیندار دے دیتے ہیں؛ لوگ انہیں جانوروں کے چارے کے طور پر بیچ کر تھوڑا بہت کما لیتے ہیں۔ بیوہ کو ایک زمیندار نے میاں کی زندگی میں دو گائیں آدھے حصے پر دی تھیں، مگر وہ ابھی چھوٹی ہیں—پیداوار کم از کم ایک سال بعد ہو گی۔ بیوہ کی بڑی بیٹی کو اس کے شوہر نے—قد چھوٹا اور جہیز نہ لانے کا بہانہ بنا کر—دو بیٹیوں سمیت گھر سے نکال دیا، اور بیٹا اپنے پاس رکھ لیا۔ دوسری بیٹی، جس کی شادی ہونے والی ہے، اسے آنکھوں میں کراس ویژن کا مسئلہ ہے۔ پورے خاندان کا قد بھی نارمل سے کم ہے۔ گھر کا واحد سہارا وہ بچہ ہے جو گدھی پر چارہ لاتا ہے۔ مقامی زمیندار وزن اور قد کا بہانہ بنا کر گنے کی کٹائی کے 35–45 روپے فی من کے بجائے اسے 20 روپے دیتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی—دو ہزار زیادہ دینے سے فصل کے منافع میں کیا فرق پڑتا ہے؟ گزارے کا پوچھا تو بیوہ نے دکھایا: کھیتوں اور سڑک کنارے سے ٹوٹے ہوئے گنے جمع کر کے دس دن میں اکٹھے کرتے ہیں، پھر گُڑ بنانے والے کو بیچ دیتے ہیں—جو وہ دے دے۔ کسی رحم دل نے حال ہی میں دو ہزار دیے، تو چار دن پیٹ بھر کر روٹی کھائی—اماں کے الفاظ تھے۔ میرے قدم لڑکھڑا گئے؛ اس کا حساب ہم بہتر حال والوں نے دینا ہے۔ فصل دو ماہ کی ہے—اس کے بعد؟ بیوہ بولی: “میاں زندہ تھا تو گدھے پر برتن بیچ آتا تھا۔ اب دیکھیں گے۔ مجھ پر تو بڑی بیٹی کا بوجھ ہی بہت ہے—وہ ساری زندگی میرے پاس رہے گی۔ مہر جی، چھوٹی کے لیے کیا دیں گے آپ؟” اندر کمرے میں گندم کی کلوٹی خالی تھی—ایک دانہ نہیں۔ چارپائی پر پلاسٹک کے برتن تھے، رنگ اور ڈیزائن ایک جیسے نہیں۔ یہ جمعہ بازار سے جہیز کے لیے لیے گئے تھے؛ دکاندار نے دھوکے سے دے دیے۔ 3500 روپے میں جہیز کی واحد چیز—وہ بھی دینے کے قابل نہیں۔ پوچھا: ان برتنوں کے علاوہ؟ اماں بولی: “اللہ ہے، اللہ۔” بیوہ کے لیے ڈاکٹر دوست سے رابطہ کیا ہے—چیک اپ اور دوائیں دلوانی ہیں۔ ٹوکا مشین پانچ گھروں کی مشترکہ ہے۔ بیٹی زمیندار کے گھر صفائی کرتی ہے—وہاں سے جو روٹی سالن ملے، وہی کھاتے ہیں؛ نہ ملے تو بھوکے رہتے ہیں۔ بڑی بیٹی کی ایک بچی آٹھ ماہ کی، دوسری تین سال کی ہے۔ بہنوئی اب فیصل آباد فیکٹری میں لگا ہے اور نئی شادی کی باتیں کرتا ہے۔ جب بیٹی واپس گھر آئی تو باپ صدمے میں تھا—رات سویا، صبح اللہ کو پیارا ہو گیا۔ امام بارگاہ کے علم کو پکڑ کر روتا رہتا تھا: “یا رب، میری بیٹی کا گھر بس جائے۔” بیٹیاں ایسے باپ کو اندر سے کھا جاتی ہیں، جب ان کے گھر نہ بسیں یا بستے گھر اجڑ جائیں۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ کسی کی بہن بیٹی پر ظلم کا بدلا کسی نہ کسی صورت میں دینا پڑتا ہے۔ بیٹی کی شادی پر ہمارے بزرگ کہتے ہیں: “دھی تاں نبی وی اپنے گھر نہیں بٹھا سکتا۔” اگر ممکن ہوتا تو نبی کریم ﷺ بی بی حضرت فاطمہؓ کو خود سے جدا کیوں کرتے؟ گاؤں کے ایک سید نے—جو خود بھی حالات کا مارا ہے—بلب، تار اور پلگ لا کر لگا دیا؛ پیسے لینے سے انکار کیا۔ یہ گھر کا پکا کمرہ بھی ایک زمیندار نے انعام میں بنوا دیا تھا—اسے برتن پسند آ گئے تھے۔ اس خاندان کا درد لکھنا میری ہمت سے باہر ہے۔ جو سنا، وہ بھی ادھورا چھوڑ کر میں نکل آیا—نکل نہیں، بھاگ آیا۔ آج اس گھر میں جہیز، گندم اور راشن پہنچانا ہے—یہ آج کا پہلا کام ہے۔ ان شاء اللہ۔ #saqiballyana #floodinpakistan