У нас вы можете посмотреть бесплатно کام کرتی ہیں انہیں وہ عزت اور وقار دیتی ہیں جس کے وہ قابل ہیں تو ہمیشہ وہ ترقی کی منازل или скачать в максимальном доступном качестве, видео которое было загружено на ютуб. Для загрузки выберите вариант из формы ниже:
Если кнопки скачивания не
загрузились
НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если возникают проблемы со скачиванием видео, пожалуйста напишите в поддержку по адресу внизу
страницы.
Спасибо за использование сервиса ClipSaver.ru
کام کرتی ہیں انہیں وہ عزت اور وقار دیتی ہیں جس کے وہ قابل ہیں تو ہمیشہ وہ ترقی کی منازل بڑے اسانی سے طے کرتے ہیں بہت ساری جگہوں پہ میں نے سنا کہ جو ہمارے بڑے ترقی افتہ ممالک ہیں کہ اگر کوئی ٹیچر پرائمری ٹیچر کے خلاف کوئی کیس ا جائے تو انہیں عدالت میں نہیں بلایا جاتا نہ انہیں کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے کیونکہ وہ قوم کو بنانے والے ہیں تو اپ پہ یہ فرض ہے کہ اپ نے اساتذہ کرام کا احترام یہ یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد بھی اسی طرح کریں کہ جس طرح ایک اپنے محسن کا احترام کیا جا سکتا ہے اور اپ کے والدین مجھے پتہ ہے پاکستان میں بڑی مشکل صورتحال ہے تعلیم اپنے بچوں کو دلانا یقینا اسان کام نہیں ہے بحیثیت چانسلر میں روزمرہ یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے حالات جو ہیں اس میں ایک متوست طبقے کے بندے کے لیے اور ایک سفید پوش کے لیے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانا یقینا ایک مشکل کام ہے۔ اپنے والدین کی وہ مشکلات اور وہ پریشانیاں ان کو اسانیوں میں بدلیں ان کے لیے اسانیاں پیدا کریں اور یقینا میں یہ کہتا ہوں کہ اگر والدین جانا صاحب نے ہے خوش ہو کے چلے جائیں گے تو نہ کبھی اپ کو دنیا میں کوئی پریشانی ہوگی اور نہ اخرت میں تو یقینا اور یہ ڈگری جو ہے جو اج اپ لے کے جا رہے ہیں یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے کہ اپ نے یہ ڈگری ڈیز لی اور وہ اپ کے لیے ایک رائڈ ہے کہ میں نے یہ لے لیا ہے یا میں نے۔ کام کرتی ہیں انہیں وہ عزت اور وقار دیتی ہیں جس کے وہ قابل ہیں تو ہمیشہ وہ ترقی کی منازل بڑے اسانی سے طے کرتے ہیں بہت ساری جگہوں پہ میں نے سنا کہ جو ہمارے بڑے ترقی افتہ ممالک ہیں کہ اگر کوئی ٹیچر پرائمری ٹیچر کے خلاف کوئی کیس ا جائے تو انہیں عدالت میں نہیں بلایا جاتا نہ انہیں کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے کیونکہ وہ قوم کو بنانے والے ہیں تو اپ پہ یہ فرض ہے کہ اپ نے اساتذہ کرام کا احترام یہ یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد بھی اسی طرح کریں کہ جس طرح ایک اپنے محسن کا احترام کیا جا سکتا ہے اور اپ کے والدین مجھے پتہ ہے پاکستان میں بڑی مشکل صورتحال ہے تعلیم اپنے بچوں کو دلانا یقینا اسان کام نہیں ہے بحیثیت چانسلر میں روزمرہ یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے حالات جو ہیں اس میں ایک متوست طبقے کے بندے کے لیے اور ایک سفید پوش کے لیے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانا یقینا ایک مشکل کام ہے۔ گورنر پنجاب نے یونیورسٹی اف سرگودھا میں خطاب کرتے ہوئے کہاجو ہے وحد سے گودہ یونیورسٹی ہوگی جو چائنہ نے اپنا کیمپس کھولنے جا رہے ہیں اور پھر بات وہیں پہ اتی ہے کہ جب میں بھی گورنر ہاؤس سے اٹھ کے جاؤں گا تو میرے کریڈٹ میں یہ ہوگا کہ بحیثیت چانسلر میں نے چائنا میں جو ہے اپ نے پبلک سیکٹر ادا کرنا تو بنتا ہے کہ میری جو سی وی ہے اس میں بھی وہ ایڈ ہوگا تو اسی طرح محنت کی ضرورت ہے اداروں کو بنانے کی ضرورت ہے اور صرف جو ہے وہ مشکلات کو دیکھ کے اور بیٹھ جانا کہ اب اس کا میں کیا کروں گا اپ گورنمنٹ یہ کریں فلانا وہ کریں فلانا اس سے کچھ نہیں ہوتا ہمت کر کے کھڑے ہو جائیں نیت اپ کی ٹھیک ہو اللہ بھرپور مدد کرتا ہے اور کامیابیاں انشاءاللہ اپ کے کزن چنتی ہیں یہ ڈاکٹر صاحب کی جو محنت اور سوچ اور ویژن ہے یہ اپ کے لیے مثال ہے اور سولر پہ یہ وید یونیورسٹی ہے جو ساری سولر پہ ہوگی بہت ساری یونیورسٹیز ہیں جو کچھ اہستہ اہستہ ہے لیکن یہ تمام سولر پہ ہو گئی اور وہ بھی دیکھیں انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے ایچ ای سی پیسے دے مجھے پنجاب گورنمنٹ پیسے دے یا مجھے فلانا پیسے دے انہوں نے اپنے ان خرچوں کو کم کیا سال دو سال میں اپنے اگر ان کے خرچہ مثلا 10 روپے تھے ان کو سات اٹھ پہ کر کے جو بچت کی اس سے سولر لگا دیا ایک بہت بڑی بات ہے۔ حکومت پیسے نہیں دے سکتی اس کے جو ہے وہ برداشت نہیں کر سکتی تو اپ جب ڈاکٹر صاحب لے ائے ہیں باہر سے انویسٹمنٹ تو وہ بھی کرنے کے لیے یہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ جی ہماری مدد کریں اصولی طور پہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ اتنا بڑا ایک کام کر کے ائے ہیں ان کو ویلکم کیا جاتا ان کو جو ہے وہ جو وہ ہم اپنا میں بات روکتا بھی ہوں اور پھر نہیں پھر روک بھی نہیں سکتا ایمانداری سے اور وہ پھر کبھی کبھی گلے بھی پڑ جاتی ہیں کہ یہ اپ 23 مارچ 14 اگست کو تمغہ امتیاز اور فلانا اور وہ تھوک کے حساب سے ہم دے رہے ہوتے ہیں اور یہ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ جس کو دے رہے ہیں اس نے اس ملک کے لیے کیا کیا ہے ایمانداری سے میں سچی بات کر رہا ہوں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس نے کیا کیا ہے اور جو بیچارہ کچھ کرتا ہے اس کو اتنا پریشان کر دیا جاتا ہے کہ وہ ائندہ کرے ہی کچھ نہیں تو اللہ پاک ہمیں ہدایت دے اور اللہ ہم پہ رحم کرے تو انشاءاللہ ڈاکٹر صاحب میں جس قابل ہوں حاضر ہوں انشاءاللہ دن رات اس کے لیے پوری جدوجہد کریں گے پوری کوشش کریں گے کہ اس کو ہم کامیابی سے جو ہے وہ چلانے میں کامیاب ہو جائیں اور۔ ہمارا کچھ اچھا کرنے سے کون سا سارا ٹھیک ہو جائے گا ہم نے دائیں بائیں دیکھنا ہی نہیں ہے ہم نے اپنے ملک کے لیے کام کرنا ہے اپنے لوگوں کے لیے اچھا کرنا ہے اپ نے ملک کے لیے اچھا کرنا ہے اور انشاءاللہ اخر کامیابی ہمارے ہی ہوگی اور یہ ملک انشاءاللہ عظیم بنے گا اور عظیم مقصد جس کے لیے اللہ نے اس کو کرییٹ کیا ہے انشاءاللہ وہ اپ اور ہم اپ کی انکھوں سے دیکھیں گے بہت شکریہ۔۔۔۔